سفینہ بنا رکھیں طوفان سے پہلے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸
بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں ۔
۷- ہمدرد پبلک اسکول ( نئی دہلی ) میں ۱۵ دسمبر، ۱۹۹۰ کو ایک جلسہ ہوا ۔ جس میں اسکول کے طلبہ اور اساتذہ شریک ہوئے ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور اسلام کی مثبت تعلیمات کے موضوع پر ایک تقریر کی۔
۸- نوئیڈا کے کمیونٹی سنٹر میں ۱۷ دسمبر، ۱۹۹۰ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ مسلم اور غیر مسلم شریک ہوئے ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام اور انسانی احترام کے موضوع پر ایک تقریر کی ۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ صبر کب تک ۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ صبر مرتے دم تک ۔ صبر ایک عبادت ہے جس طرح نماز ساری عمر پڑھی جاتی ہے اسی طرح صبر بھی ساری عمر کرنا ہے ۔ کیونکہ جس طرح نماز ایک عبادت ہے اسی طرح صبر بھی ایک عبادت ہے ۔ قرآن میں دونوں کا حکم ایک ساتھ دیا گیا ہے ۔ ۹- صدر اسلامی مرکز نے کلکتہ، مرشد آباد ، برہم پور وغیرہ کا دورہ کیا ۔ اس سلسلہ میں ملاقاتوں اور خطابات کا پروگرام رہا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے ۔ یہ دورہ ۲۰ دسمبر ۱۹۹۰ کو شروع ہوا اور ۲۲ دسمبر کو واپسی ہوئی ۔
۱۰- ۲۶ دسمبر، ۱۹۹۰ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ریکارڈ کی ۔ اس کا موضوع یہ تھا ۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی پر رمضان کے اثرات ۔ احادیث کی روشنی پر ۱۲ منٹ اظہار خیال کیا گیا ۔
۱۱- بہار پردیش مسلم کا نفرنس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بوکار و کا سفر کیا ۔ ۲۷-۲۹ دسمبر ۱۹۹۰ کو وہاں ملاقات اور خطابات کے مختلف پروگرام ہوئے ۔ دو تقریروں کا موضوع یہ تھا : اسلام کا پیغام انسانیت کے نام، مسلمانوں کے مسائل اور ان کا حل ۔ ۱۲- بتاریخ ۲۹ - ۳۰ نومبر اور یکم دسمبر، ۱۹۹۰ کو بمبئی میں تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع منعقد کیا گیا ۔ جس میں الرسالة فورم بمبئی کی جانب سے بک اسٹال لگایا گیا ۔ اور لوگوں نے غیر معمولی دل چسپی کا اظہار کیا اور کافی کتابیں خریدیں ۔
۱۳- بی بی سی ( ٹی وی ) کی ٹیم نے ۱۶ جنوری ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues