Al-Risala · April 1998 · page 7

بھلائیوں میں سبقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۷

بھلائیوں میں سبقت

قرآن (البقرہ ۱۴۸) میں ہے کہ۔ ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے جدھر وہ منہ کرتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو (وَ لِكُلِّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ) یہ آیت قبلہ کے مسئلہ کے ذیل میں آئی ہے۔ مگر، قرآنی اسلوب کے مطابق، اس میں ایک بنیادی بات بتا دی گئی ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ فاستبقو االخیرات کا لفظ سیاق کے اعتبار سے خصوصی مفہوم رکھتے ہوئے وسیع تر پہلو کے اعتبار سے ایک عمومی حکم ہے جو ہر انسان کو ہر لمحہ ایک بنیادی ہدایت دے رہا ہے۔

زندگی مسابقت کے اصول پر مبنی ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر یہ جذبہ موجود ہے کہ وہ آگے بڑھے اور ترقی کرے۔ اسی فطری جذبہ کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی اپنی دوڑ لگا رہا ہے، ہر آدمی دوسروں سے آگے بڑھنے کے لیے اپنی پوری طاقت خرچ کر رہا ہے۔ مسابقت کا یہ جذبہ عام طور پر خواہش کے رخ پر چل پڑتا ہے۔ ہر انسان کے اندر جس طرح مسابقت کا جذبہ رکھا گیا ہے اسی طرح ہر ایک کے اندر مادی خواہشیں بھی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہیں۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مادی خواہش کا زور آدمی کے جذبہ مسابقت کو ایک رخ پر دوڑا دیتا ہے۔ دنیا میں بیشتر لوگ زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی اندرونی خواہش نے ان کے مسابقت کے جذبہ کو مال کے رخ پر موڑ دیا۔

مگر قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی مسابقت کے جذبہ کو خیر کے رخ پر سرگرم کرے۔ وہ اپنی مادی خواہشوں کو اپنی دوڑ کا نشانہ بنانے کے بجائے اس چیز کو نشانہ بنائے جس کو خدا نے خیر قرار دیا ہے۔ خیر سے مراد علم بھی ہے، جو آدمی کی ذہنی اور فکری ترقی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح اس سے دعوت حق بھی مراد ہو سکتی ہے جو کام کا اتنا وسیع میدان ہے جس کی حدیں کہیں ختم نہیں ہوتیں۔ اسی طرح بھلائیوں میں مسابقت کا ایک میدان وہ بھی ہے جس کو خدمت خلق کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page