صلح بہتر ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۸
صلح بہتر ہے
قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ نزاع کی صورت میں دونوں فریق آپس میں صلح کر لیا کریں ۔ اور صلح بہتر ہے ، اور حرص انسانوں کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے (النساء ۱۲۸) یہ اصول انسانی زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے ، خواہ اس کا تعلق گھر کے معاملہ سے ہو یا باہر کے معاملہ سے۔ خواہ وہ دو آدمیوں کا مسئلہ ہو یا پوری جماعت کا مسئلہ ۔ خواہ وہ قومی ہو یا بین اقوامى - اجتماعی زندگی کے تمام نزاعی معاملات کا یہی واحد حل ہے ۔ صلح کی قابل عمل صورت صرف ایک ہے ، اور وہ یہ کہ معاملہ کے دونوں فریق اسٹیٹس کو (حالت موجودہ) پر راضی ہو جائیں ۔ اس میں واحد رکا وٹ حرص ہے ۔ معاملہ کا ایک یا دوسرا فریق حرص میں پڑ کر اسٹیٹس کو کو توڑنا چاہتا ہے ، بروقت طے ہوئے پر راضی نہ ہو کر وہ مزید کو حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لیے فطری طور پر دوسرا فریق آمادہ نہیں ہوتا ، بس یہی مزاج صلح میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور پھر دونوں فریق انتہائی بے فائدہ طور پر لڑائی کو جاری رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ اپنے طے ہوئے کو بھی کھو دیتے ہیں ۔
صلح کو اکثر لوگ نزاعی معاملہ کی سطح پر جانچتے ہیں ۔ حالاں کہ یہ ایک ثانوی درجہ کی چیز ہے۔ زیادہ اہم اور زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ صلح آدمی کے لیے نئے عمل کا دروازہ کھولتی ہے۔ صلح کے بعد آدمی کو اپنا سفر جاری رکھنے کا راستہ مل جاتا ہے ۔ نزاع کی حالت سفر حیات کو روکتی ہے ، اور صلح کا معاملہ زندگی کے رکے ہوئے سفر کو از سر نو جاری کر دیتا ہے ۔ صلح کوئی پسپائی نہیں ۔ صلح دراصل پریکٹیکل وزڈم (عملی حکمت) کا دوسرا نام ہے۔ صلح حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے ۔ صلح کا مطلب جذباتی مواقع پر غیر جذباتی فیصلہ لینا ہے۔ صلح یہ ہے کہ نزاعی معاملات میں آدمی انانیت کا شکار نہ ہو۔ وہ کسی چیز کو اپنے لیے پرستیج (ساھ کا مسئلہ) نہ بنائے۔ وہ ہمیشہ تدبّر اور انضباط کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ جذباتیت اور اشتعال کا۔
ٹکراؤ عمل کا دروازہ بند کرنے والا ہے اور صلح عمل کا دروازہ کھولنے والا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues