خواہش پرستی نہیں
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳
خواہش پرستی نہیں
قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں حضرت داؤدؑ سے خطاب کرتے ہوئے ایک اصولی بات فرمائی گئی ہے۔ فرمایا کہ تم خواہش کی پیروی نہ کرو، وہ تم کو خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی (ص ۲۶) خدا نے انسان کے لیے ایک درست راستہ مقرر کیا اور پھر ہر انسان کی فطرت میں اسی کی تمیز رکھ دی۔ انسان اگر اپنی فطرت کی اس خاموش رہنمائی کو سمجھے اور اس کی پیروی کرے تو وہ کبھی بے راہ نہ ہو، وہ زندگی کی شاہراہ پر سیدھا چلتا رہے یہاں تک کہ وہ آخری منزل پر پہنچ جائے۔
فطرت کی اس شاہراہ سے بھٹکانے والی چیز صرف ایک ہے اور وہ انسان کی خود اپنی خواہش ہے۔ یہ خواہش زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو بہکاتی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اپنے آپ کو خواہش کے اثر میں نہ آنے دے۔ جو آدمی اپنی خواہش سے مغلوب ہو گیا وہ لازماً فطرت کے سیدھے راستہ سے ہٹ جائے گا، اور جو آدمی فطرت کی راہ سے ہٹ جائے اس کے لیے تباہی کے سوا اور کوئی انجام نہیں۔
آدمی کی خواہش اس کو مختلف طریقوں سے بھٹکاتی ہے۔ کبھی اس کو ظاہری رونقوں کے فریب میں الجھا کر گہری حقیقتوں سے دور کر دیتی ہے، کبھی وقتی فائدہ کی خاطر اس کو اس راہ سے ہٹا دیتی ہے جو مستقل فائدہ کی طرف جانے والی ہے۔ کبھی کسی معاملہ کو غیرت وحمیت کا سوال بنا کر آدمی کو مشتعل کر دیتی ہے۔ وہ انجام سے بے پروا ہو کر لڑنا بھڑنا شروع کر دیتا ہے جس کا ایک طرف نقصان سب سے زیادہ خود اسی کو بھگتنا پڑتا ہے۔
آدمی کی خواہش ، آدمی کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ جو شخص کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خواہش کو اپنے کنٹرول میں رکھے۔ نہ یہ کہ خود خواہش کے کنٹرول میں آ جائے۔ خواہش پرستی کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ اصول پسندی کا طریقہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خواہشوں کا شکار نہ بنے بلکہ وہ اعلیٰ انسانی اصولوں کی پیروی کرے۔ اس کا ہر رویہ سوچے سمجھے اصول کے تحت متعین ہوتا ہو نہ کہ محض نفس اور خواہش کی پیروی کے تحت۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues