صبر ، عجلت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴
صبر ، عجلت
قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ــــ پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا، اور ان کے لیے عجلت نہ کرو (الاحقاف ۳۵) اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہے صابرانہ عزیمت ، اور دوسری چیز ہے بے صبری اور عجلت ۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ان آیتوں کا مطالعہ کیجئے جو نبوت کے ابتدائی دور میں مکہ میں اتاری گئیں :
اے کپڑے میں لپٹنے والے، اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ ہو کہ احسان کرو اور زیادہ بدلہ چاہو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو (مدثر ۱-۷)
سورہ مدثر کی ان آیات کی روشنی میں مذکورہ فرق کو متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں صرف انہی چند احکام پر عمل کرو ، اور بقیہ تمام معاملات کو صبر کے خانے میں ڈال دو ۔
یعنی انذار و تبشیر کے انداز میں لوگوں کو مسئلہ آخرت سے آگاہ کرو ۔ اللہ کی عظمت و کبریائی تمہارا موضوع کلام بن جائے ۔ اچھے اخلاق اور اعلیٰ کردار میں اپنے آپ کو ڈھال لو۔ ہر قسم کی اعتقادی اور عملی برائیوں سے آخری حد تک دور ہو جاؤ۔ لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک کرو، مگر ان سے بدلہ پانے کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لیے۔
یہ گویا پانچ نکاتی پروگرام تھا جو اس وقت دیا گیا۔ اگرچہ اس وقت مکہ میں اس کے سوا بہت سے مسائل تھے۔ مثلاً کعبہ میں ۳۶۰ بتوں کا ہونا، سماج میں طرح طرح کے جرائم، مکہ کی پارلی منٹ (دار الندوہ) پر مشرکین کا قبضہ، عرب میں رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کا سیاسی نفوذ، وغیرہ۔ مگر ان سب پر صبر کا حکم دیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ، اس وقت جن کاموں کے لیے نتیجہ خیز جدوجہد ممکن ہے، ان پر محنت کرو ۔ اور جن کاموں میں بروقت نتیجہ خیز عمل ممکن نہیں ہے ان سب کو مستقبل کے حالات پر چھوڑ دو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues