مراد آباد کا سفر
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹
ہوگئے تاکہ زمین پر انسان جیسی مخلوق کی آبادکاری کی راہ ہموار کریں۔ یہ واقعہ کیسے ہوا ۔ اس کا جواب ماہرین ارضیات کے پاس کچھ نہیں۔ انسائیکلو پیڈیا آف برطانیہ کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ کریٹی سیس دور کے آخری زمانہ میں ڈائناسار ارضیاتی ریکارڈ سے مکمل طور پر سطح زمین سے غائب ہو گئے۔ اس اچانک خاتمہ (sudden extinction) کا سبب مکمل طور پر غیر واضح ہے۔ قیاسی طور پر کچھ اسباب بتائے جاتے ہیں مثلاً درجہ حرارت میں تبدیلی وغیرہ۔ لیکن علماء کے نزدیک یہ اطمینان بخش نہیں ہیں (III/556)
دہلی سے ہم لوگ ظہر کی نماز کے بعد روانہ ہوئے تھے۔ دہلی کی مختلف مانوس سڑکوں سے گزرتے ہوئے آخر کار ہم اس شاہراہ پر پہنچے جو نیشنل ہائی وے نمبر ۲ کہی جاتی ہے۔ یہ سڑک سیدھی مراد آباد تک جارہی تھی۔
راستہ میں ایک جگہ دو ہاتھی جھومتے ہوئے چلے جارہے تھے۔ ہاتھی عجیب و غریب جانور ہے۔ وہ صرف سواری یا سرکس کے لیے نہیں ہوتا۔ وہ مختلف قسم کی ضروری خدمت بھی انجام دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تربیت کے بعد ہاتھی کم وبیش ۳۰ قسم کی انسانی آوازوں کو سمجھتا ہے اور اس کے مطابق ان کی تعمیل کرتا ہے۔ ایک ہزار سال قبل مسیح سے ہاتھی کو جنگی ضرورتوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ایک مبصر کے الفاظ میں، یہ طاقت ور حیوان ایک چھوٹے قلعہ کو اپنی پیٹھ پر لاد کر ادھر سے ادھر لے جاسکتے ہیں :
These powerful beasts could carry a miniature fort on their backs. (19/682)
راستہ میں دونوں صاحبان سے دینی اور ملی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ انھوں نے دعوت کی اہمیت کے بارہ میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ دعوت تو مسلمانوں کے اوپر فرض کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو شخص دعوتی کام کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو وہ کیا کرے۔ میں نے کہا کہ ایسا آدمی مدعو کے حق میں ہدایت کی دعا کرے۔ خدا اگر آپ کو اس حال میں نہ دیکھے کہ آپ مدعو پر محنت کر رہے ہیں تو کم سے کم یہ ہونا چاہیے کہ آپ اپنی تنہائیوں میں یہ سوچ کر تڑپ اٹھیں کہ میں دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ادا نہ کر سکا۔ اور پھر بے تابانہ طور پر آپ کی زبان سے یہ الفاظ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues