Al-Risala · January 1998 · page 18

مراد آباد کا سفر

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸

مراد آباد کا سفر

جولائی ۱۹۹۵ میں مراد آباد سے جناب عبدالرحمن صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ مراد آباد کا سفر کریں۔ اور یہاں کچھ وقت ہم لوگوں کے ساتھ گزاریں۔ اس کے بعد بار بار ان کا خط اور ٹیلی فون آتا رہا۔ آخر کار مجھے راضی ہونا پڑا چنانچہ ۹ مارچ ۱۹۹۶ کو دہلی سے مراد آباد کا سفر ہوا۔ یہ سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ میرے ساتھ جناب عبد الرحمن صاحب اور جناب غلام مصطفیٰ رحیمی صاحب تھے۔ یہ مراد آباد کے لیے میرا چوتھا سفر تھا۔ مراد آباد کے لیے پہلا سفر ۱۹۸۷ میں ہوا تھا۔ اس سفر میں میرا قیام جناب شاکر وارث صاحب کے مکان پر تھا۔ اس سفر کی رو داد الرساله نومبر ۱۹۸۷ میں شائع ہو چکی ہے۔ مراد آباد کا دوسرا اور تیسرا سفر اس کے کئی سال بعد ہوا۔ دونوں بار میرا قیام جناب اقبال احمد صاحب (23029 .Tel) کے مکان پر تھا۔ چوتھا سفر موجودہ سفر ہے۔ اس بار میرا قیام جناب عبد الرحمن صاحب کے مکان پر رہا۔

ہماری کار دہلی کی سڑکوں پر گزرتی ہوئی آگے بڑھی تو ایک مقام پر وہ منظر دکھائی دیا جس کو ڈائنا سار کہا جاتا ہے۔ نظریہ ارتقاء کے مطابق قدیم زمانہ میں زمین پر بہت بڑے جانور پائے جاتے تھے جن کو ڈائنا سار کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہاتھی نما جانور زمین کے اوپر ۶۵ ملین سال پہلے پائے جاتے تھے۔ بعد کو وہ معدوم ہو گئے۔

یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ زمین پر کس طرح روک تھام (check and balance) کا نظام قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ڈائنا سار بلکہ تمام جانور لامحدود طور پر بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر قدرتی روک نہ ہو تو ہر پتنگا ہاتھی بن جائے اور ہر ہاتھی پہاڑ کی مانند نظر آنے لگے۔ حتی کہ خود آدمی لمبا ہو کر ٹاڑ جیسا قد حاصل کر لے۔ یہ ایک عظیم قدرتی کنٹرول ہے جو ہر چیز کو ایک متعین حد کے اندر رکھتا ہے۔ اگر یہ کنٹرول باقی نہ رہے تو یہ زمین اس قابل ہی نہ رہے گی کہ وہاں انسان جیسی مخلوق آباد ہو اور اس کے اوپر تہذیب و تمدن کی تعمیر کرے۔ ڈائنا سار جو قدیم زمانہ میں زمین پر گویا حکومت کر رہے تھے ایک وقت آیا کہ وہ اچانک ختم

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page