کبر کی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶
کبر کی اہمیت
پروگرام کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جس کی حیثیت مثبت پروگرام کی ہو ۔ اور دوسری وہ جو اتفاقی ضرورت کے تحت اختیار کی جائے ۔ مثلاً صحت بخش غذا ہمارے جسم کی مستقل ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ کبھی جسم کو دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر دوا کی حیثیت صرف وقتی مطلوب کی ہے ۔ غذا ہمارے جسم کی مستقل ضرورت ہے اور دوا ہمارے جسم کی صرف اتفاقی ضرورت ۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے ۔ دین میں صبر کی حیثیت مثبت تعلیم کی ہے ۔ صبر ہماری مستقل دینی ضرورت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جنگ کی حیثیت صرف وقتی ضرورت کی ہے۔ صبر ایک عظیم نیکی ہے جو ہر وقت اور ہر حال میں مطلوب ہے۔ جب کہ جنگ صرف اس وقت مطلوب ہوتی ہے جبکہ انتہائی ناگزیر حالات میں بطور دفاع اس کی ضرورت پیش آ گئی ہو۔
صبر وہ اہم ترین اصول ہے جو موجودہ امتحان کی دنیا میں ہر وقت اور ہر شخص کو درکار ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اس امتحان کے مرحلے کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔
اس دنیا میں آدمی کو اپنے نفس کے مقابلہ میں صبر کرنا ہے۔ شیطان کی ترغیبات کے مقابلہ میں صبر کرنا ہے۔ دوسرے انسانوں کی طرف سے پیش آنے والی نا خوش گواریوں پر صبر کرنا ہے۔
صبر کی ضرورت ہر لمحہ اور ہر موقع کے لیے ہے ۔ نقصان کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے کو مایوسی سے بچائیں۔ فائدہ کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے اندر اٹھنے والے برتری کے احساس کو کچل کر ختم کر دیں۔ بیماری کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ آہ و فغاں نہ کریں ۔ صحت کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے اندر فخر و ناز کے جذبات کو نہ اٹھنے دیں۔ اشتعال انگیزی کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے کو مشتعل ہونے سے بچائیں۔ اور جب کوئی شخص آپ کی تعریف کرے تو اس وقت صبر یہ ہوگا کہ آپ اس سے صبر کی غذا لینے کے بجائے سراپا تواضع بن جائیں۔ صبر کوئی انسانی قانون نہیں ، وہ خود فطرت کا ایک قانون ہے ۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے، خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues