صبر ، عجلت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
ایک آیت
قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی صفت بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کافروں پر سخت ہیں (اشدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ) الفتح ۲۹ کچھ لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اہل اسلام کا برتاؤ غیرمسلموں سے نرمی کا نہیں بلکہ سختی کا ہونا چاہیے ۔ ان کو ہمیشہ غیرمسلموں سے کڑا سلوک کرنا چاہیے ۔ یہ بات سراسر غلط ہے۔ رسول اللہ کے بارہ میں حضرت عائشہ نے کہا کہ آپ کا اخلاق قرآن تھا (کان خلقہ القرآن) اگر اس آیت کا مطلب یہ ہو تو آپ کو اپنے معاصر غیرمسلموں سے کڑا برتاؤ کرنا چاہیے تھا۔ حالاں کہ ایسا نہیں۔ حدیث اور سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ آپ نے ہمیشہ اپنے زمانہ کے غیرمسلموں سے نرمی اور شفقت کا برتاؤ کیا۔ حتیٰ کہ بہت سے واقعات ہیں جب کہ کسی غیرمسلم نے آپ کے ساتھ سختی کا معاملہ کیا۔ اس وقت بھی آپ اس کے لیے نرمی کا پیکر بنے رہے۔ شدید کے لفظی معنی سخت کے ہیں ۔ ھو شدید علی کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فلاں شخص کو اپنے اثر میں لانا مجھ پر سخت دشوار ہے۔ گویا اس سے مراد کڑا یا کرخت ہونا نہیں ہے بلکہ غیر اثر پذیر ہونا ہے۔ الحماسہ میں ایک شاعر کہتا ہے کہ جوانی کی عمر میں آدمی اگر مردانگی سے عاجز رہ جائے تو ادھیڑ عمر میں اس کو حاصل کرنا اس پر سخت دشوار ہوگا : إذا المرءُ أعيته المروءةُ ناشِئاً فمطلبُها كهلاً عليه شديدُ مذکورہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اتنے پختہ ہوتے ہیں کہ وہ غیرمسلموں کا اثر قبول نہیں کرتے ۔ وہ مکمل طور پر با اصول زندگی گزارتے ہیں ۔ وہ غیرمسلم قوم یا غیرمسلم تہذیب کے درمیان رہ کر بھی ان کا اثر نہیں لیتے ۔ آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مومن کا برتاؤ نرم کے بجائے سخت ہوتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے درمیان اثر پذیر بن کر رہنے کے بجائے غیر اثر پذیر بن کر رہتا ہے۔ غیرمسلموں کا اثر لینے کے معاملہ میں وہ پتھر کی طرح سخت ثابت ہوتا ہے ۔ اس آیت کا تعلق اصلاً برتاؤ سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہمیشہ با اصول انداز میں زندگی گزاری جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues