تکمیلِ انسانیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱
تکمیلِ انسانیت
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ جس نے لوگوں سے معاملہ کیا پھر ان سے ظلم نہیں کیا۔ اور ان سے بات کی اور جھوٹ نہیں بولا۔ اور ان سے وعدہ کیا پھر ان کی خلاف ورزی نہیں کی تو وہ ان میں سے ہے جس نے اپنی انسانیت کی تکمیل کر لی (رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم انه قال : مَنْ عَامَلَ النَّاسَ فلم يَظْلِمْهُمْ ، وَحَدَّثَهُمْ فلم يكذبهم، ووعد هم فلم يخلفهم فهو ممن كملت مروءته ) ادب الدنیا و الدین للبصری، صفحہ ۵۰۱ کامل انسان کون ہے، کامل انسان وہ ہے جس کے اندر انسانیت کی اعلیٰ صفات پائی جائیں۔ جو ہر تجربہ میں اور ہر موقع پر یہ ثابت کرے کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک انسان ہے نہ کہ انسان کی صورت میں صرف ایک حیوان۔
انسان کی پہچان اس کی صورت نہیں ہے بلکہ اس کا معاملہ ہے۔ جو آدمی دوسروں سے معاملہ کرتے ہوئے اپنی انسانیت کو قائم رکھے وہی سچا اور حقیقی انسان ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی معاملہ کے وقت ان امیدوں کو پورا نہ کر سکے جو ایک انسان سے بحیثیت انسان کی جاتی ہیں تو وہ اپنی انسانیت کو ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا۔
اس سلسلہ میں ایک انسانی صفت یہ ہے کہ آدمی جب کسی سے معاملہ کرے تو وہ اس کے ساتھ ظلم نہ کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس سے روکے کہ وہ دوسروں کے ساتھ حق تلفی کرنے لگے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اسی چیز کو لے جو عدل و انصاف کے اعتبار سے اس کا حق ہے۔ اور جو چیز امر واقعہ کے اعتبار سے اس کا حق نہ ہو اس کو وہ ہرگز نہ لے ، خواہ بظاہر وہ اس کو لینے کی قدرت رکھتا ہو۔
اسی طرح انسان کی انسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ سچ بولے ، وہ کبھی اپنی زبان سے ایسی بات نہ نکالے جو حقیقت کے اعتبار سے جھوٹ ہو۔ اسی طرح انسان کی ایک اعلیٰ صفت یہ ہے کہ جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کرے تو ہر حال میں وہ اس کو پورا کرے۔ کسی آدمی کے باکردار ہونے کی سب سے زیادہ یقینی پہچان یہی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues