Al-Risala · April 1998 · page 22

حسنِ اخلاق

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲

حسنِ اخلاق

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ قیامت کے دن مومن کی ترازو میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھا اخلاق ہوگا۔ اور خدا اس شخص سے نفرت کرتا ہے جو بے حیائی کی بات بولے اور بد زبانی کرے ( قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اثقل شي في ميزانِ المُؤْمِنِ يوم الْقِيامَةِ خُلقُ حَسَنُ وَإِنَّ اللهَ يُبغِضَ الفاحش البذى ) الترمذی اخلاق انسان کی پہچان ہے۔ جیسا اخلاق ویسا انسان ۔ کوئی آدمی اچھا لباس پہن کر اچھا آدمی نہیں بنتا۔ یہ دراصل اچھا اخلاق ہے جو کسی انسان کو اچھا انسان بناتا ہے۔ انسانی اخلاق کی پہچان سب سے پہلے اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ زبان آدمی کی اندرونی شخصیت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ کوئی آدمی اپنی اندرونی شخصیت کے اعتبار سے جیسا ہوگا ویسا ہی وہ اپنی زبان پر ظاہر ہوگا۔

جس آدمی کے اندر انسانیت ہو، وہ تواضع اور ہمدردی کے احساسات میں جی رہا ہو، جو اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہو کہ اس کے اوپر دوسروں کے حقوق ہیں اور ان حقوق کو بہر حال ادا کرنا ہے۔ ایسا آدمی جب کلام کرے گا تو اس کی زبان میں دوسروں کی رعایت شامل ہوگی۔ وہ ہر حال میں انصاف کی بات بولے گا۔ اس سے دوسروں کو میٹھے کلام کا تحفہ ملے گا۔

اس کے بر عکس جس آدمی کے دل میں کبر ہو، جس کا سینہ ذمہ داری کے احساس سے خالی ہو، جو دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنا نہ جانتا ہو۔ ایسا آدمی جب دوسروں سے کلام کرے گا تو اس کے کلام میں بے حسی ہوگی۔ اس کے الفاظ بد خواہی کی کڑواہٹ لیے ہوئے ہوں گے۔ دوسروں کی طرف سے اس کے خلاف کوئی سخت بات پیش آجائے تو وہ فورا مشتعل ہوجائے گا اور بدگوئی اور بدگمانی کا انداز اختیار کرلے گا۔ اچھا انسان وہ ہے جو لوگوں کے درمیان پھول کی طرح رہے۔ اور برا انسان وہ ہے جو لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ وہ لوگوں کے لیے کانٹا بنا ہوا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page