اخلاقی اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴
اخلاقی اصول
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے (لا یؤمن أحدکم حتی یحبّ لا خیہ ما یحبّ لنفسه) متفق علیہ ۔ اخلاق کا سادہ اور فطری اصول یہ ہے کہ آدمی دوسروں کے لیے بھی وہی چاہنے لگے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ اور دوسروں کے لیے بھی اس سلوک کو برا سمجھے جس سلوک کو وہ اپنے لیے برا سمجھتا ہے۔
یہ ایک ایسا معیار ہے جو ہر ایک کو معلوم ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو اس حقیقت کو نہ جانتا ہو۔ یہ اصول ہر آدمی کو ایک ایسا اخلاقی معیار دیتا ہے، جس کی روشنی میں وہ بے خطا طور پر اپنے لیے صحیح رویہ کا فیصلہ کرے، اور جو رویہ غلط ہو اس کو چھوڑ دے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ اس کو اپنے خلاف سازش پسند نہیں، اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ بھی کسی کے خلاف سازش نہ کرے ۔ ہر آدمی کو ناپسند ہے کہ کوئی شخص اس کا بد خواہ بن جائے اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ بھی کسی کے خلاف بدخواہی نہ کرے۔ ہر آدمی کو معلوم ہے کہ کڑوا بول اس کی پسند کے مطابق نہیں اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ بھی کسی کو اپنے کڑوے بول کا تحفہ نہ دے۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ اگر اس کو بے عزت کیا جائے تو ایسا فعل اس کو بے حد ناگوار ہوگا اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ کسی بھی حال میں کسی دوسرے آدمی کو بے عزت کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ہر آدمی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اس کا مال چھینا جائے تو وہ کسی حال میں اس کو پسند نہیں کرے گا۔
یہی معاملہ پسند کا ہے۔ ہر آدمی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا چیزیں اس کو پسند ہیں۔ کن چیزوں کو پا کر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اب ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے اس چیز کا حریص بن جائے جس کا حریص وہ خود بنا ہوا ہے۔ وہ دوسروں کو وہی دے جس کو وہ خود پانا چاہتا ہے کسی سماج کے افراد اگر اس اصول کو اختیار کر لیں تو اپنے آپ وہ سماج ایک بہتر سماج بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues