بھلائی اور برائی
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵
بھلائی اور برائی
حدیث میں آیا ہے کہ نواس بن سمعان صحابی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بھلائی اور برائی کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا بھلائی حسن خلق کو کہتے ہیں اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھ کو برا لگے کہ لوگ اس سے باخبر ہو جائیں (عن النواس بن سَمْعَانَ الانصاري قال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالإِثْمِ فقال البر حُسْنُ الخُلُقِ وَالإِثْمُ ما حَاكَ في صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أن يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاس) صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والادب ۔
نیکی یا بھلائی ایک جذبہ ہے جو آدمی کے دل میں ہوتا ہے ۔ اور وہ انسانوں سے معاملہ کرتے ہوئے اچھے اخلاق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نیکی اپنی اصل کے اعتبار سے ایک داخلی حقیقت ہے ۔ اور روزمرہ کی زندگی میں ظاہر ہونے والا حسن اخلاق اس کا خارجی ثبوت ۔ جس آدمی کے دل میں نیکی ہو جب وہ لوگوں سے ملے گا تو اس کے چہرہ پر خوشی کی جھلک آجائے گی ۔ جب وہ بولے گا تو اس کے الفاظ میں خیر خواہی کا جذبہ بھرا ہوا ہو گا ۔ اس کا اخلاقی رویہ ہر حال میں باقی رہے گا ، خواہ دوسروں نے اس کو خوش گوار انداز میں خطاب کیا ہو یا نا خوش گوار انداز میں ۔ مزید یہ کہ اس کی خوش اخلاقی حقیقی خوش اخلاقی ہوگی نہ کہ محض ظاہری اور مصنوعی خوش اخلاقی ۔
برائی یا برا اخلاق کیا ہے، اس کا ایک سادہ معیار فطرت نے ہر آدمی کے اندر رکھ دیا ہے ۔ اور وہ ضمیر ہے ۔ جب بھی آدمی کوئی بات سوچے یا وہ کوئی بری کارروائی کرے تو فوراً اس کے سینہ کے اندر بیٹھی ہوئی ضمیر کی عدالت اس کو چوکنّا کرتی ہے ۔ وہ خاموش زبان میں اس سے کہنے لگتی ہے کہ یہ غلط بات ہے۔ تم کو چاہیے کہ تم اسے چھوڑ دو۔ آدمی اگر ضمیر کی آواز کی پیروی کرے تو وہ کبھی برائی میں مبتلا نہ ہو۔
ضمیر کی آواز کے ذریعہ خدا ہر انسان کو متنبہ کرتا ہے۔ ضمیر خدا کی حجت ہے۔ ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرنا خدا کی آواز کو نظر انداز کرنا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues