بہترین اخلاق
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹
بہترین اخلاق
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ___ کیا میں تم کو بتاؤں کہ دنیا و آخرت میں لوگوں کا بہترین اخلاق کیا ہے۔ کہا گیا کہ ہاں اے خدا کے رسولؐ، آپ نے فرمایا کہ جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو، جو تم کو محروم کرے تم اسے دو، اور جو تمہارے اوپر زیادتی کرے تم اسے معاف کرو (عن عقبۃ بن عامر قالَ رَسولُ الله صلى الله عليه وسلّم الا اخبرك بافضل اخلاق أَهْلِ الدنيا و الاخرة قال نعم قال تصل من قطعك وتعطى من حرمك وتعفو عمن ظلمك) البیہقی دنیا میں آدمی کو بار بار تلخ تجربے پیش آتے ہیں۔ کوئی شخص ایک بات پر ناراض ہو کر آپ سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ کوئی شخص آپ کو محرومی کاتجربہ کراتا ہے۔ کوئی شخص آپ کے ساتھ زیادتی کا معاملہ کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر جوابی غصہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگ چاہنے لگتے ہیں کہ جس سے انھیں تلخ تجربہ پیش آیا ہے اس کو بھی اپنی طرف سے تلخ تجربہ کرائیں تاکہ اس کو سبق حاصل ہو۔
مگر یہ اعلیٰ انسانی سوچ نہیں۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو اپنی عقل سے سوچے، جس کا رویہ خود اپنے سوچے سمجھے اصول کے تحت متعین ہوتا ہو نہ کہ دوسروں کے رد عمل کے تحت۔ ایسے انسان کا ذہن دوسروں کے رویہ سے برہم نہیں ہوتا۔ اس کی فکری پختگی اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ رد عمل سے اوپر اٹھ کر اپنے لیے جینے کی سطح پالے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، خواہ ان کی طرف سے اس کو برے سلوک کا تجربہ ہوا ہو۔
اس کی بلند فکری اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی جڑا رہے جو اس کے ساتھ تعلق توڑنے کا معاملہ کرتے ہوں۔ وہ ان لوگوں کو بھی دینے میں خوشی محسوس کرے جو اس کو نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے ہوں۔ کوئی شخص اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرے تب بھی اس کا دل تنگ نہیں ہوتا، بلکہ وہ یک طرفہ طور پر ایسے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق با اصول انسان کا طریقہ ہے، اور کمتر اخلاق بے اصول انسان کا طریقہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues