آدابِ کلام
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰
آدابِ کلام
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ خدا اس شخص پر رحم کرے جس نے بھلی بات کہی اور اس کا فائدہ اٹھایا۔ یا وہ چپ رہا اور اس نے سلامتی پائی (رحم اللہ مَن قال خيراً فغنِمَ أو سكتَ فسلِمَ) ادب الدنيا و الدين ، صفحہ ۴۳۳ اس دنیا میں جس طرح بولنا ایک کام ہے اسی طرح چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ کبھی حالات کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آدمی بولے اور کبھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ آدمی چپ رہے۔ وہ آدمی خوش قسمت ہے جو اس فرق کو جانے۔ ایسا آدمی خود بھی کامیاب ہو گا اور دوسروں کو بھی اس سے کامیابی کا تحفہ ملے گا۔
آدمی کو کب بولنا چاہیے ، اس کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے پاس کوئی ایسی بات ہو جو سچ مچ کہنے کے قابل ہو، یہ بات وہ ہوتی ہے جس پر آدمی نے مدتوں غور کیا ہو، اس نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کے بارے میں ایک رائے قائم کی ہو، اس کا بولنا اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ تمام تر سننے والوں کی خیر خواہی میں ہو۔ تا ہم بولنے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آدمی کے پاس ایک صحیح بات ہے۔ اسی کے ساتھ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی بے لاگ جائزہ کے تحت یہ دیکھے کہ اس کا بولنا نتیجہ کے اعتبار سے کیا ہو گا۔ بولنا صرف بولنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی نتیجہ کے لیے ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ صرف اس وقت بولے جب کہ اس کو یقین ہو کہ اس کا بولنا کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا۔ جب آدمی کے پاس بولنے کے لیے کوئی بہت سوچی سمجھی بات نہ ہو یا حالات بتاتے ہوں کہ اس کا بولنا کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے کا سبب نہیں بنے گا تو ایسی حالت میں آدمی کے اوپر ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ چپ رہے۔ ایسے موقع پر اس کا چپ رہنا ہی اس کے لیے باعثِ خیر ہے نہ کہ بولنا۔ اس دنیا میں خدا کی مدد اس کو ملتی ہے جو دنیا میں قائم کیے ہوئے خدائی قانون کی پابندی کرے۔ یہ دنیا خدا کے مقرر قوانین پر چل رہی ہے۔ یہ قوانین کبھی نہیں بدلتے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ قانون فطرت سے ٹکرانے کے بجائے اس سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues