دوسروں کے حقوق
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱
دوسروں کے حقوق
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص مومن یں جو خود سیر ہو کر کھائے اور اس کے پہلو میں اس کا پڑوسی بھوکا رہے (عن ابن عباس قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليس المومن بالذي يشبع وجاره جائع الحاجنب) البيهقى جس انسان کے اندر اعلی احساس نہ زندہ ہو وہ کبھی اس کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ خود تو فراغت کے ساتھ کھائے اور پئے جب کہ اس کو معلوم ہو کہ اس کے قریب ایسے افراد موجود ہیں جو بھوک کے مسئلہ سے دوچار ہیں اور ان کے پاس اپنی بھوک مٹانے کے لیے کوئی سامان موجود نہیں۔ یہ ایک انسانی احساس ہے۔ اس کا تعلق محدود طور پر صرف کھانے پینے سے نہیں بلکہ ہر انسانی ضرورت سے ہے۔ سچے آدمی کی پہچان یہ ہے کہ جب بھی وہ کچھ انسانوں کو ضرورت کی حالت میں دیکھے تو وہ ان کے لیے تڑپ اٹھے۔ اس کو اس وقت تک چین نہ آئے جب تک کہ وہ ان کی ضرورت پوری نہ کر دے۔
اس ضرورت کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ اگر آپ کا یہ حال ہو کہ آپ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے تو بے حد فکر مند ہوں لیکن اپنے پڑوسیوں یا اپنے ہم وطنوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا جذبہ آپ کے اندر نہ پایا جائے تو یہ بھی اسی کوتاہی میں شامل ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ اپنے گھر والوں کی معاشیات کو درست کرنے کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے ہوں لیکن دوسروں کی معاشیات کے بارے میں آپ کچھ نہ سوچیں تو آپ کی یہ روش بھی اسی حدیث کی مصداق قرار پائے گی۔ خدا کی جنت ایک لطیف اور نفیس کالونی ہے۔ اس میں وہی لوگ داخل کیے جائیں گے جو اپنے اندر آفاقی مزاج رکھتے تھے، جو تمام انسانوں کے درد کو اپنا درد بنائے ہوئے تھے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں کوئی اچھا انسانی سماج وہ لوگ بناتے ہیں جن میں یہ صفت ہو کہ وہ خود کھانے کے ساتھ دوسروں کو کھلائیں۔ وہ اپنے لیے سوچنے کے ساتھ دوسروں کے لیے بھی سوچیں ۔ وہ اپنی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کی تڑپ رکھتے ہوں ۔ وہ انسانی سماج میں اس طرح رہیں جیسے کہ یہ سماج ایک وسیع کنبہ ہے اور وہ اس کنبہ کے ایک فرد۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues