Al-Risala · April 1998 · page 33

پابند زندگی

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳

پابند زندگی

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے کھونٹی کی رسی سے بندھا ہوا گھوڑا، وہ گھومتا ہے اور پھر اپنی کھونٹی کی طرف واپس آ جاتا ہے (مثل المومن ومثل الایمان کمثل الفرس في آخيتہ یجول ثم یرجع الى آخيتہ) البیہقی۔ بحوالہ مشکاۃ المصابیح ۱۲۲۶/۲ انسان کو دنیا کی زندگی میں کھلے ہوئے گھوڑے کی طرح نہیں رہنا ہے بلکہ بندھے ہوئے گھوڑے کی طرح رہنا ہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو مقرر اصولوں کا پابند بنائے ۔ وہ ایک با اصول انسان کی زندگی گزارے نہ کہ بے اصول انسان کی زندگی ۔

یہ با اصول زندگی کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ آدمی حرام اور حلال میں تمیز کرے۔ خدا نے جن چیزوں کی اجازت دی ہے ان کو استعمال کرے اور خدا نے جن چیزوں سے روکا ہے ان سے وہ اپنے آپ کو روکے رہے۔

انسان کو چاہیے کہ وہ تعمیری انداز میں سوچے اور تجریبی سوچ سے ہر حال میں اپنے آپ کو باز رکھے۔ وہ اپنی زبان سے صرف درست بات نکالے اور جہاں غلط بات کا موقع ہو وہاں وہ اپنی زبان کو بند کرلے۔ لوگوں سے معاملہ کرنے میں وہ انصاف کے اصولوں کی پابندی کرے، وہ کبھی لوگوں کے ساتھ بے انصافی کا معاملہ نہ کرے، لوگوں کے درمیان اس کا سلوک ذمہ دارانہ سلوک ہو، غیر سنجیدگی اور غیرذمہ داری کی روش کو وہ ہمیشہ کے لیے ترک کر دے۔

گھوڑے کو مادی رسی باندھتی ہے۔ مگر انسان کو جو چیز باندھتی ہے وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے اخلاقی اور انسانی اصول ہیں۔ گھوڑا مجبور ہوتا ہے کہ وہ رسی کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔ یہی کام انسان خود عائد کی ہوئی پابندی کے تحت کرتا ہے۔ انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی رسی آپ بن جائے۔ وہ اس پابند زندگی کو آزادانہ طور پر اختیار کرلے جس کو ایک گھوڑا مجبورانہ طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔ ناکام وہ ہے جو آزادی پا کر بے قید ہو جائے اور کامیاب وہ ہے جو آزادی کے باوجود پابند زندگی گزارے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page