Al-Risala · April 1998 · page 34

نرم رش

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴

نرم رش

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــــ مومن کی مثال ایک زرعی پودے جیسی ہے جس کو ہوائیں ہلاتی رہتی ہیں۔ ایک جھونکا اس کو زمین پر گرا دیتا ہے اور دوسرا جھونکا اس کو سیدھا کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا آخری وقت آ جائے (مثل المؤمن كمثل الخامة من الزرع تُفَيِّئُهَا الرياح، تصر عهامرة وتعد لها اخرى، حتی یا تیه اجله) متفق علیہ بحوالہ مشکاۃ المصابیح ج۱ ص ۴۸۰ خدا پرست انسان اکڑ والا انسان یں ہوتا، بلکہ وہ ایک نرم انسان ہوتا ہے۔ اپنی فکر اور عقیدہ پر کامل یقین رکھنے کے باوجود، عملی زندگی میں اس کا رویہ ہمیشہ نرمی والا ہوتا ہے نہ کہ سختی والا۔ سماجی زندگی میں کوئی آدمی اپنے عقیدہ میں تو بے لچک ہو سکتا ہے مگر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے بے لچک بننا اس کے لیے ممکن نہیں۔ عقیدہ ایک ذاتی معاملہ ہے اور وہ حقیقت و واقعہ سے مطابقت کے تحت بنتا ہے مگر عملی روش میں لوگوں کے ساتھ نہ رعایت کرنا ضروری ہے۔ لوگوں کی رعایت کیے بغیر عملی زندگی کا کوئی ڈھانچہ بننا ممکن نہیں۔

عملی زندگی میں کوئی شخص اکڑ کی روش کیوں اختیار کرتا ہے، یہ ہمیشہ انانیت کی بنا پر ہوتا ہے۔ جب بھی کسی سے اختلاف کی صورت پیش آتی ہے تو آدمی فوراً اس کو اپنے لیے غیرت کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں نے اس معاملہ میں لچک دکھائی تو میں فریق ثانی کے مقابلہ میں چھوٹا بن جاؤں گا۔ یہی احساس اس کو لچک دار رویہ اختیار کرنے سے روک دیتا ہے۔ وہ اپنے موقف کو اصولی موقف قرار دے کر اس پر جم جاتا ہے۔ حالانکہ ایسے موقع پر اصولی موقف یہ ہے کہ معاملہ کو غیرت کا سوال نہ بنایا جائے، بلکہ نرمی اور لچک کا انداز اختیار کرتے ہوئے معاملے کو حل کیا جائے ۔ خدائی عقیدہ کے تحت جو انسان بنتا ہے اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ ساری بڑائی خدا کے لیے ہے۔ میں اس کا صرف بندہ ہوں اور میرے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ احساس خدا پرست انسان کو ایک نرم انسان بنا دیتا ہے۔ جس کا اظہار لوگوں کے درمیان مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے۔ نرمی اور رعایت کا طریقہ ایک خدائی طریقہ ہے۔ اس کے برعکس شدت اور اکڑے پن کا طریقہ سراسر غیر خدائی طریقہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page