یکساں انسان
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵
یکساں انسان
حدیث میں آیا ہے کہ — پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران وہاں سے ایک جنازہ گزرا، آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ نے فرمایا۔ کیا وہ انسان نہ تھا (الیسٹ نفسا) فتح الباری ۲۱۴/۳ خدا پرستانہ زندگی کا اصول یہ ہے کہ ہر انسان کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جائے، خواہ وہ ایک مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے مذہب سے۔ خواہ وہ اپنی قوم کا آدمی ہو یا غیر قوم کا آدمی۔ احترام کا تعلق اس حقیقتِ واقعہ سے ہے کہ خدا نے جس طرح مجھ کو پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے دوسرے انسانوں کو بھی پیدا کیا ہے۔ ایک انسان خواہ وہ کوئی بھی مذہب یا کلچر اختیار کرلے اس کی انسانی حیثیت بہرحال باقی رہتی ہے۔ اور اس مشترک حیثیت کی بنا پر وہ تمام لوگوں کے لیے بدستور قابلِ احترام بنا رہتا ہے۔
جب آپ کسی آدمی کو دیکھیں اور آپ کی نظر اس کے اختلافی پہلو پر چلی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ اس کے بارے میں نفرت اور توحش میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آپ اس کو اس نظر سے دیکھیں کہ وہ ایک انسان ہے۔ وہ خدا کا ایک تخلیقی شاہکار ہے۔ اس کا وجود ذاتی وجود خدا کی اعلیٰ صفات کی یاد دلاتا ہے۔ تو ایسی حالت میں آپ ظاہری اختلافات کو بھول کر خدا کی خدائی میں گم ہو جائیں گے۔
اب مخلوق کے آئینہ میں آپ کو خالق دکھائی دینے لگے گا۔ انسان کی صورت میں آپ ایک ایسی ہستی کا تصور کرنے لگیں گے جو آپ ہی کی طرح خدا کی پیدا کی ہوئی ہے جو اتنا ہی محترم ہے جتنا آپ خود اپنے کو محترم سمجھتے ہیں۔ جس کا تعلق خدا کے ساتھ اتنا ہی ہے جتنا خود آپ کا تعلق خدا ئے رحمن ورحیم کے ساتھ ہے۔ کسی انسان کا احترام انسان کے لیے نہیں ہوتا بلکہ خدا کے لیے ہوتا ہے مومن جب کسی انسان کا احترام کرتا ہے تو یہ اس کی طرف سے دراصل اس کے خدائی احساسات کا اظہار ہوتا ہے۔ اور خدائی احساسات کے اظہار کی کوئی حد نہیں۔ اس کا تعلق کانٹے سے بھی اتنا ہی ہے جتنا پھول سے، وہ ایک انسان کے معاملہ میں بھی اسی طرح ظاہر ہوتا ہے جس طرح کسی دوسرے انسان کے معاملہ میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues