Al-Risala · January 1998 · page 21

مراد آباد کا سفر

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

نکلیں کہ خدایا تو مجھے معاف فرما، اور اپنی طرف سے اس قوم کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دے۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اس طرح کی چیزوں میں آپ کو اپنے دل سے فتویٰ پوچھنا چاہیے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : استفت قلبك - انھوں نے کہا کہ دل سے فتویٰ پوچھنے کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کامن سنس (عقل عام) کو استعمال کرنا۔ ایک سوال یہ تھا کہ امت کے اختلافات کیسے ختم ہوں۔ میں نے کہا کہ اختلاف انسانی فطرت کا تقاضا ہے، اور وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آپ کا کام اختلاف کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اختلاف کو برداشت کرنا ہے۔ اختلاف خود انسانی فطرت میں شامل ہے۔ آپ فطرت سے لڑ نہیں سکتے۔ آپ فطرت سے موافقت کر کے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔

عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ آپ کے بارہ میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے حج نہیں کیا۔ آپ دنیا بھر کے سفر کرتے رہتے ہیں، مگر ابھی تک آپ حج کے لیے کو نہیں گئے۔ میں نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹی بات ہے۔ میں نے خدا کے فضل سے ۱۹۸۲ میں وہاں جا کر حج کا فرض ادا کیا ہے۔ اس کی رو داد حج کا سفر“ کے عنوان کے تحت الرسالة جولائی ۱۹۸۳ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ میں خدا کے فضل سے مجھے عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، اس سفر کی رو داد الرسالة مئی ۱۹۸۴ میں دیکھی جاسکتی ہے (صفحہ ۲۲)

راستہ میں ایک نہر پڑی۔ ساتھی نے بتایا کہ یہی وہ ملیا نہ کی نہر ہے جس میں لوگوں کو مار کر ان کی لاشیں ڈال دی گئی تھیں۔ میں نے دیکھا تو نہر کا پانی بدستور خاموشی کے ساتھ بہہ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ ساری کائنات آج خاموش ہے، جب کہ یہی کائنات آخرت میں بول پڑے گی۔ وہ خدا کی عدالت میں ساری باتوں کی گواہی دے گی۔ اس دن وہ تمام باتیں کھل جائیں گی جو آج بظاہر چھپی ہوئی نظر آتی ہیں۔

راستہ میں ہم لوگ ایک جگہ پہنچے تو ایک اور سڑک نکل کر بائیں طرف جاتی ہوئی نظر آئی۔ ساتھی نے بتایا کہ یہ سڑک امروہہ کی طرف جا رہی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے اکتوبر ۱۹۶۹ میں امروہہ کا سفر کیا تھا۔ اس کی رو داد الجمعیۃ ویکلی(۲۱نومبر۱۹۶۹) میں چھپ چکی ہے۔ اس کا ایک جزو یہ تھا :

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page