Al-Risala · January 1998 · page 22

مراد آباد کا سفر

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲

یہاں شہر کے باہر آٹھ سو سال پہلے کے ایک بزرگ سید شرف الدین شاہ ولایت کا ایک مزار ہے جو ۵۲ بیگھ رقبہ کے ایک قبرستان میں واقع ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اس علاقہ میں بچھو ہیں لیکن بزرگ کی دعا کی وجہ سے وہ کسی کو کاٹتے نہیں۔ حتیٰ کہ باہر سے کوئی زہریلا بچھو جب اس زمین پر لاکر ڈالا جاتا ہے تو وہ بھی نہیں کاٹتا۔ اس سلسلہ میں یہاں کے لوگوں نے کئی واقعات سنائے۔۔۔ درگاہ کو دیکھ کر جب میں لوٹ رہا تھا تو میرے دل میں خیال آیا کہ بچھوؤں کی یہ کرامت بڑی عجیب ہے۔ کاش ہم نے ایسے بزرگ بھی پیدا کیے ہوتے جو ہماری اندرونی لڑائیوں کو ختم کر دیتے یا وہ اس ہولناک جارحیت کو بے اثر کر دیتے جو آج مخالفین کی طرف سے ملت کو مسلسل پیش آرہی ہے (صفحہ ۱۱)

ایک جگہ سڑک کے کنارے ماروتی کچلی ہوئی پڑی تھی ۔ اس کو دیکھ کر ہمارے ساتھی نے کہا کہ مسافروں کا کیا حال بنا ہوگا۔ ڈرائیور نے اس کو سن کر کہا؛ کوئی نہیں، بچا ہوگا۔ اسی طرح راستہ میں کئی گاڑیاں کچلی ہوئی یا الٹی ہوئی نظر آئیں ۔ یہ مشینی دور کے حادثات تھے۔ قدیم زمانہ میں بھی حادثات ہوتے تھے مگر مشین کے زمانہ نے حادثات کی تعداد بہت بڑھا دی ہے۔ اس دنیا میں ترقی حادثات اور مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ مگر آخرت کی دنیا وہ دنیا ہوگی جہاں ہر قسم کی بے حساب ترقیاں ہوں گی۔ لیکن مسائل اور حادثات وہاں یکسر ختم کر دیے جائیں گے۔

دہلی سے ہم لوگ ۲ بجے روانہ ہوئے تھے۔ مسلسل سفر کرنے کے بعد 4 بجے شام کو ہم لوگ " مرشد آباد " پہنچے۔ ہماری گاڑی سڑک کے کنارے بنے ہوئے ایک گیٹ کے سامنے کھڑی ہوئی۔ مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ اس آہنی گیٹ کے اندر کیا ہے۔ گیٹ کھلا اور ہم لوگ اندر داخل ہوئے تو اچانک ایک وسیع اور خوب صورت دنیا ہمارے سامنے تھی۔

یہ ایک سر سبز و شاداب دنیا تھی جس کو گلاب اسٹوڈیو کہا جاتا ہے۔ اس کے احاطہ میں ایک خوب صورت مسجد بھی ہے۔ یہاں ہم نے عصر کی نماز ادا کی۔ اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر یہ خواہش چھپی ہوئی ہے کہ وہ اپنے لیے ایک " گارڈن ہاؤس " بنائے۔ چنانچہ جس شخص کو بھی موقع ملتا ہے وہ فوراً اپنے لیے اس قسم کا ایک مکان تعمیر کرتا ہے جو درخت

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page