Al-Risala · April 1998 · page 42

اخلاقی کنٹرول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲

اخلاقی کنٹرول

ابو مسعود البدری ایک صحابی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک بار وہ اپنے غلام کو کوڑے سے مار رہے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وہاں آگئے ۔ آپ نے یہ دیکھ کر کہا کہ اے ابو مسعود جان لوکہ اللہ تمہارے اوپر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر قدرت رکھتے ہو۔ یہ سن کر ابو مسعود کے ہاتھ سے کوڑا گر گیا ۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ میں کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ اس کے بعد انھوں نے غلام کو آزاد کر دیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو آگ تم کو پکڑ لیتی (صحیح مسلم بحوالہ ریاض الصالحین، صفحہ ۳۹۸)

دنیا میں ظلم و زیادتی کی جتنی صورتیں ہیں ان سب کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ایک انسان کا سابقہ جب کسی دوسرے انسان سے پیش آتا ہے تو وہ اس کو صرف ایک انسانی معاملہ سمجھتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ بس ایک انسان ہے اور اگر میں اس کے ساتھ ظلم یا بے انصافی کروں تو اس کے آگے کہیں میری پکڑ ہونے والی نہیں ۔

مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام انسانوں کے اوپر ایک برتر طاقت ہے اور وہ خدا ہے جو ہر ہر انسان کی نگرانی کر رہا ہے۔ جو شخص کسی دوسرے کو ناحق ستائے یا اس کے ساتھ بے انصافی کرے تو خدا ایسے شخص کو پکڑے گا اور اس کو اس کے فعل کی سخت سزا دے گا ۔

خدائی پکڑ کا یہ احساس کسی انسان کے لیے سب سے بڑا روک ہے۔ وہ انسان کو بتاتا ہے کہ جس معاملے کو تم صرف ایک انسانی معاملہ سمجھ رہے ہو وہ حقیقتاً ایک خدائی معاملہ ہے۔ کسی انسان کے مقابلہ میں تم طاقت ور ہو سکتے ہو ، مگر خدا کے مقابلہ میں کوئی بھی طاقت ور نہیں۔ خدا کی پکڑ جب ظاہر ہوگی تو نہ کوئی طاقت والا اس کی زد سے بچے گا اور نہ کوئی بے طاقت والا ۔ مذکورہ عقیدہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقی کنٹرول میں رکھے۔ وہ اپنی آزادِی کو کسی بھی حال میں غلط طور پر استعمال نہ کرے۔ اگر آپ کو اس حقیقت کا یقین ہو جائے تو کوئی انسان آپ کو کمزور نہیں دکھائی دے گا جس کو آپ دبائیں ، اور نہ کوئی انسان آپ کو بے یارو مددگار نظر آئے گا جس کے اوپر اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے لیے آپ دلیر ہو جائیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page