Al-Risala · April 1998 · page 43

غصہ نہیں

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳

غصہ نہیں

حدیث میں ہے کہ ایک شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے کچھ ایسی باتیں بتائیے جن کے تحت میں زندگی گزاروں اور وہ زیادہ نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ تم غصہ نہ کرو (عَنْ حمید بن عبد الرحمن بن عوف أَنَّ رَجُلاً أَتَى إِلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم فقال: يَا رَسُولَ الله عَلَّمَنی كَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلا تُكْثِرْ عَلَيَّ فأنْسَى، فقال رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لا تَغْضَبْ") موطا امام مالک ، صفحہ ۶۵۲ غصہ تمام انسانی خرابیوں کی جڑ ہے۔ جو آدمی اپنے غصہ پر قابو پا لے وہ بقیہ تمام خرابیوں سے اپنے آپ بچ جائے گا۔ کسی آدمی کو اگر صرف ایک جامع اور کلیدی نصیحت کرنی ہو تو وہ صرف یہ ہوگی اپنے آپ کو غصہ سے بچاؤ۔

غصہ کا مزاج ہر انسان میں ہوتا ہے۔ مگر عام حالات میں غصہ آدمی کے اندر سویا ہوا ہوتا ہے۔ یہ غصہ صرف اس وقت جاگتا ہے جبکہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آکر اس کو جگا دے۔ دنیا کی زندگی میں یہی آدمی کا امتحان ہے جب وہ کسی کی زبان سے کڑوی بات سنے اور اس کے سینہ میں غصہ کی آگ بھڑک اٹھے تو آدمی کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ غصہ کی آگ کو بجھائے نہ کہ غصہ کی آگ کو اتنا بھڑکائے کہ خود بھی اس میں جل کر ختم ہو جائے۔

کامیاب انسان وہ ہے جس کا یہ حال ہو کہ غصہ کے حالات میں بھی وہ غصہ نہ کرے۔ اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو۔ ایسا آدمی معاملہ کو بڑھائے بغیر ابتدائی مرحلہ ہی میں اس کو ختم کر دے گا۔ غصہ نہ کرنے کی عادت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو بے فائدہ طور پر ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے۔ وہ نا موافق حالات میں بھی اپنے لیے موافق امکانات دریافت کر لیتا ہے۔

غصہ نہ کرنا عالی ظرفی کی علامت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو آدمی غصہ کرے وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ ظرف کی بلندی کی صفت اس کے اندر موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page