حسرت کا عذاب
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۵
حسرت کا عذاب
موجودہ زندگی میں سب سے بڑا عذاب حسرت کا عذاب ہوتا ہے۔ آدمی کسی قیمتی موقع کو کھو دے تو اس کو سوچ کر ہمیشہ آہیں بھرتاہے۔ کھوئے ہوئے مواقع کا غم کبھی آدمی کے سینہ سے نہیں نکلتا۔ غالباً یہی معاملہ آخرت میں بھی ہوگا۔ آخرت کی دنیا میں بھی کسی انسان کے لیے سب سے بڑا عذاب غالباً حسرت کا عذاب ہوگا۔ موجودہ دنیا کے کھوئے ہوئے مواقع اس کے اوپر تلخ یاد بن کر مسلط ہو جائیں گے۔ یہ ایک ناقابل برداشت غم ہوگا جس سے آدمی کبھی نجات نہ پاسکے گا۔
آدمی کی موجودہ عمر جب ختم ہو جائے گی اور وہ ہمیشہ کے لئے آخرت کی دنیا میں پہنچ جائے گا تو اس کو ایک ایک کرکے وہ لمحات یاد آئیں گے جو موجودہ دنیا میں اس کے ساتھ گزرے تھے۔ مگر اس نے اُن لمحات کو نظر انداز کیا۔ ان کو وہ اپنے اعمال نامہ کا حصہ نہ بنا سکا۔
وہ کرب ناک احساس کے ساتھ سوچے گا کہ کیسے کیسے قیمتی مواقع مجھے ملے تھے جب کہ میں ایک عمل کا ثبوت دے کریہاں خدا کی رضا جیسی نعمت کو پا سکتا تھا۔ مگر میری بھول نے مجھ کو محروم رکھا۔ میں اس قیمتی موقع کو استعمال نہ کر سکا۔ خدا نے مجھے ایک شاندار امکان کے کنارے پہنچایا مگر اس امکان کو میں اپنے لئے واقعہ نہ بنا سکا۔
میرے سامنے فلاں صداقت ظاہر ہوئی مگر میں اس کے حق میں اعتراف کا کلمہ نہ بول سکا۔ فلاں موقع پر میں نے حق کو مظلوم ہوتے ہوئے دیکھا مگر میں نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ فلاں بندہ خدا کا فلاں حق میرے ذمہ تھا مگر میں اس کو اس کا حق لوٹانے پر راضی نہ ہوا۔ فلاں موقع پر میرے دل کی دھڑکنوں نے تیز ہو کر مجھے الا رم دیا تھا مگر اس خدائی الارم کو سن کر میں نے اسے بھلا دیا۔ فلاں ٹھوکر نے مجھے انتباہ دیا تھا کہ تم غلط راستہ پر جا رہے ہو مگر میں نے اس کی پروا نہیں کی اور بدستور اسی غلط راستہ پر چلتا رہا۔ عمل کی دنیا سے نکل کر جب آدمی نتیجہ عمل کی دنیا میں پہنچے گا تو اس قسم کی بے شمار باتیں اسے یاد آئیں گی۔ وہ آہوں کی زبان میں سوچے گا کہ دنیا کے ان مواقع کو اگر میں استعمال کرتا تو اب آخرت کے عالم میں کتنے بڑے خیر کا مالک بن سکتا تھا۔ مگر ان مواقع کو برباد کر کے میں نے اپنی زندگی کو برباد کر دیا۔ یہ مواقع اب ابدی طور پر مجھ سے کھوئے جا چکے ہیں۔ اس لئے اس کا برا انجام بھی اب ابدی طور پر مجھے برداشت کرنا ہے۔