قانون ہشت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۶
قانون ہشت
اگر آپ ایک چو کور کا غذ کو لیں اور اس کو موڑ نا شروع کریں تو آپ صرف آٹھ موڑ تک اس کو موڑ پائیں گے۔ اس کے بعد نواں موڑ یا دسواں موڑ آپ کے لیے نا ممکن ہو جائے گا۔ یہ اصول ہر حال میں درست ہے خواہ آپ کا غذ پوسٹ کارڈ کے برابر ہو یا روزانہ اخبار کے برابر یا کسی بہت بڑے پوسٹر کے برابر۔ ہر حال میں آپ کا موڑ آٹھ پر جاکر رک جائے گا۔ اس کے آگے وہ نہیں بڑھے گا۔ یہ قانون ہشت (آٹھ کا قانون) ہے ۔ یہ فطرت کا قائم کردہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسی طرح زندگی کے ہر شعبہ میں مانع قوانین موجود ہیں جو کسی کی سرگرمیوں کو ایک حد پر جاکر روک دیتے ہیں۔ کسی بڑے سے بڑے طاقتور کے لیے بھی اس حد بندی کو توڑنا ممکن نہیں۔
اس دنیا میں ایٹم بم صرف ایک بار گرایا جا سکتا ہے ، بار بار ایٹم بم گرانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ایک شخص ظالمانہ الفاظ بولنے کے لیے آزاد ہے مگر اپنے ظالمانہ الفاظ کو واقعہ بنانا اس کے لیے ممکن نہیں۔ کوئی شخص ایک عبادت خانہ کو ڈھا سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ وہ سارے ہی عبادت خانوں کو ڈھا دے۔ ایک شخص منفی نعرے لگا کر اقتدار تک پہنچ سکتا ہے مگر کوئی بھی اقتدار اس کے لیے کافی نہیں کہ وہ اپنے نعروں کو تاریخ کا درجہ دے دے۔
فطرت کا یہ اٹل قانون اس دنیا میں ہر انسان کے لیے امن اور تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ جب تک یہ دنیا موجود ہے اس کا یہ قانون بھی لازمی طور پر موجود رہے گا۔ فطرت کا یہ قانون صرف اس وقت ختم ہو گا جب کہ خود یہ دنیا ہی ختم ہو جائے اور کوئی شخص یہاں باقی ہی نہ رہے جو ظالمانہ الفاظ بول کر لوگوں کو ڈرائے یا مفسدانہ منصوبہ بنا کر لوگوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرے ۔
فطرت کا یہ نا قابل تغیر قانون اپنی خاموش آواز میں کہہ رہا ہے کہ اے لوگو، تم اپنے آپ کو خود اپنے ظلم سے بچاؤ ۔ کیوں کہ تم سے باہر کوئی بھی نہیں جو تم کو اپنے ظلم و فساد کا نشانہ بنا سکے ۔ اسی قانون ہشت کو قرآن میں قانون دفع کہا گیا ہے۔ یعنی روک کا قانون، جو ہر چیز کو ایک متعین حد پر رہنے کے لیے مجبور کر دے ۔