Al-Risala · May 1998 · page 8

ذاتی نمائش

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۸

ذاتی نمائش

ایک مسلمان کمانے کے لیے باہر گئے۔ وہ تعلیم یافتہ تو نہ تھے، تاہم باہر انھیں کوئی اچھا کام مل گیا۔ انھوں نے کافی پیسہ کمایا۔ وہ عید کے موقع پر گھر آئے تو انھوں نے مجھے بھی خصوصی طور پر اپنے یہاں عید کے دن آنے کی دعوت دی۔ میں گیا۔ سوئیاں لائی گئیں۔ میں نے دیکھا تو اس کے اوپر سونے کا ورق لگا ہوا تھا۔

میں نے سوچا کہ اس طرح تو چاندی کا ورق لگانا بھی بے کار ہے۔ پھر انھوں نے سونے کا ورق کیوں لگا دیا ہے۔ آخر کار سمجھ میں آیا کہ اس کے پیچھے ذاتی نمائش کا جذبہ تھا۔ چاندی کے ورق کے عمومی استعمال کی وجہ سے اس کی اہمیت گھٹ گئی ہے۔ اس لیے انھوں نے سونے کا ورق لگایا تا کہ ذاتی نمودونمائش کا مقصد پورے طور پر حاصل ہو۔

ذاتی نمائش کا جذبہ آدمی کا سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ ہے۔ یہ جذبہ جاہلوں کے اندر بھی ہے اور عالموں کے اندر بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ جاہلوں کا جذبہ کثیف انداز میں ظاہر ہوتا ہے اور تعلیم یافتہ لوگوں کا جذبہ لطیف انداز میں ۔

ذاتی نمائش کا جذبہ بے شمار صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی بظاہر اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ میں سونے اور چاندی کے سکوں میں بکنے والا نہیں، مگر عین اسی وقت وہ نمودونمائش اور شہرت و عزت کے سکوں میں بکا ہوا ہوتا ہے۔ آدمی بظاہر خاکساری کا مظاہرہ کرتا ہے، مگر اس کی خاکساری صرف اظہارِ خویش کی بدلی ہوئی صورت ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ عبادت کرتا ہے ۔ وہ مال خرچ کرتا ہے ۔ وہ لڑکر اپنی جان دیدیتا ہے مگر ان سب کے پیچھے بھی حقیقۃً ذاتی نمائش کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کے یہاں ساری اہمیت صرف نیت کی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ آخری حد تک اپنی نیت کو پاک رکھنے کی کوشش کرے۔ جو کچھ کرے صرف اللہ کے لیے کرے۔ جب بھی کسی عمل کے دوران اس کے اندر ذاتی نمائش کا جذبہ آ جائے تو وہ اس کو شیطان کا وسوسہ سمجھتے ہوئے اللہ سے استغفار کرے۔ یہی نجات کا واحد راستہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page