Al-Risala · May 1998 · page 7

کسب اور وہب

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۷

کسب اور وہب

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ (بہترین نمونہ) ہے۔ یہ ایک سادہ اور واضح بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے منتخب پیغمبر کو براہِ راست علم حقیقت عطا کیا۔ اور بقیہ لوگوں کے لئے پیغمبر کو اس کے حصول کا ذریعہ بنا دیا۔ پیغمبر نے جو عمل بلا واسطہ خدا ئی حکم کے تحت کیا ، اسی کو ہمیں پیغمبرانہ تقلید کے طور پر بالواسطہ انداز میں انجام دینا ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے اس سیدھی اور صاف بات میں گمراہی ملا دی ۔ انھوں نے کہا کہ جو چیزیں پیغمبر کے لئے قابلِ حصول تھیں وہ سب کی سب ہمارے لئے بھی قابلِ حصول ہیں۔ اللہ سے مکالمہ ، فرشتہ سے براہِ راست ملاقات، غیب کی خبروں پر اطلاع، وغیرہ ۔ ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہ کو جب قرآن نے اسوہ قرار دیا ہے تو وہ کلی اعتبار سے ہمارے لئے اسوہ قرار پائیں گے نہ کہ صرف جزئی اعتبار سے ۔ چنانچہ اکثر صوفیاء ، کسبی نہ کسی طور پر یہ کہتے ہیں کہ عبادت و ریاضت کے ذریعہ انسان تمام کمالاتِ نبوت تک پہنچ سکتا ہے ۔ اگرچہ اب کسی انسان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو منصبِ نبوت پر فائز ہونے کا دعویٰ کرے ۔

یہ بلاشبہ گمراہی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اسوہ نبوت کسب میں ہے ، وہب میں نہیں ۔ کسی آدمی کا پیغمبر یا ملہم ہونا سراسر ایک وہبی چیز ہے۔ اس معاملہ میں کوئی پیغمبر کسی کے لئے نمونہ نہیں۔ البتہ پیغمبر کے اعمال وکردار کسی ہوتے ہیں ، اسی دوسرے اعتبار سے وہ ہمارے لئے نمونہ ہے۔

ایک ہے علمِ دین ، اور دوسری چیز ہے کیفیاتِ دین علمِ دین کے معاملہ میں پیغمبر ایک مستثنیٰ شخصیت ہوتا ہے ۔ مگر کیفیاتِ دین میں ہر آدمی اپنی محنت کے بقد رحصہ پاتا ہے۔ جو آدمی تذکر اور تفکر کا طریقہ اختیار کرے گا اس کو از دیا دِ ایمان کی نعمت ملے گی۔ جو آدمی سچا سجدہ کریگا اس کو اپنی صلاحیت کے بقدر خدا کی قربت کا تجربہ ہوگا۔ جو آدمی زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی زندگی گزارے گا اس کے دل میں حکمت وبصیرت کاانبات ہو گا۔ جو آدمی اپنی ساری توجہ اللہ میں لگا دے گا اس پر اللہ کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔ جو آدمی حقیقی معنوں میں صبر و تقویٰ کا ثبوت دے گا وہ ضرور نصرتِ خدا وندی میں اپنا حصہ پائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page