Al-Risala · May 1998 · page 10

جھوٹی ہوشیاری

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۰

جھوٹی ہوشیاری

لطیفہ ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے روزہ رکھا۔ دوپہر تک اس کو پیاس لگ گئی۔ جب پیاس نے زیادہ ستایا تو اس نے چاہا کہ چھپ کر پانی پئے ۔ وہ روزانہ ندی پر نہانے کے لیے جایا کرتا تھا۔ اس نے سوچا کہ چھپ کر پانی پینے کی سب سے بہتر جگہ ندی ہے ۔

وہ نہانے کے لیے ندی کی طرف گیا۔ ڈبکی لگا کر جلدی جلدی پانی پینے لگا۔ عین اسی وقت ایک کانٹے دار مچھلی اس کے منہ میں داخل ہوگئی۔ مچھلی کا کانٹا آدمی کی حلق میں پھنس گیا۔ وہ روتا چلاتا ہوا ندی سے باہر نکلا۔ اس کی ہوشیاری اس کے لیے الٹی پڑی۔ لوگوں نے اور بھی زیادہ جان لیا کہ اس نے ندی میں ڈبکی لگا کر پانی پیا ہے۔ حلق میں کانٹے دار مچھلی کے پھنسنے کی مصیبت اس کے علاوہ تھی۔ دنیا میں اکثر لوگ اسی قسم کی جھوٹی ہوشیاری میں مبتلا رہتے ہیں ۔ وہ ایک غلط مقصد حاصل کرنے کے لیے ہوشیاری کا جال بچھاتے ہیں۔ مگر خدا کا قانون ان کے سارے تانے بانے کو بکھیر دیتا ہے۔ اس وقت وہ اپنے آپ کو اس حال میں پاتے ہیں کہ ان کا اصل مقصد بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اور بدنامی کی سیاہی مزید ہوتی ہے جو ان کو ہمیشہ کے لیے رو سیاہ کرکے رکھ دیتی ہے۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسند بنے ۔ وہ جو کچھ حاصل کرے جائز حدود میں رہ کر حاصل کرے ، ناجائز حدود میں داخل ہوکر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کبھی نہ کرے ۔

جو لوگ بظاہر دین کا حلیہ بناتے ہیں ، مگر دینی حلیہ کے پردہ میں دنیا داری کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی مثال مذکورہ دیہاتی جیسی ہے ۔ ان کے اس کھیل کا حال یقیناً کھل کر رہے گا، اگر دنیا میں نہ کھلا تو آخرت میں تو بہر حال اس کو کھلنا ہے ۔ اور آخرت کا کھلنا ، بلاشبہ ، دنیا میں کھلنے سے بھی زیادہ سخت ہے۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملہ کو ہمیشہ صاف رکھے ۔ کبھی اپنے ضمیر کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اپنی حد کے اندر باقی رکھے ، اپنی واقعی حد سے تجاوز کرنے سے بچتا رہے ۔ خدا نے اس کو جائز طور پر جو کچھ دیا ہے ، اس پر قانع رہ کر زندگی گزارے ۔ جو شخص ایسا کرے گا وہ دنیا میں بھی کامیاب رہے گا اور آخرت میں بھی کامیاب ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page