Al-Risala · May 1998 · page 11

بے قیمت الفاظ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱

بے قیمت الفاظ

آپ بینک کے ذریعہ کسی شخص کو کچھ رقم ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس کو آپ اتنی ہی رقم کا ایک چک دیتے ہیں۔ یہ چک صرف اس وقت کار آمد ہے جب کہ بینک کے یہاں آپ کے کھاتہ میں اتنی مقدار میں رقم موجود ہو جتنی آپ نے چک کے کاغذ پر لکھی ہے ۔

اگر بینک کے یہاں آپ کے کھاتہ میں ضروری رقم نہ ہو اور آپ کسی کو چک لکھ کر دے دیں تو ایسے چک کی کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ اس چک کی بنیاد پر بینک رقم کی ادائیگی نہیں کرے گا۔ آپ کا اس قسم کا چک صرف ایک بے قیمت کاغذی پرزہ ہے نہ کہ فی الواقع بینک چک۔ ایسے چک کو بینک کی اصطلاح میں بے کار چک (Dud cheque) کہا جاتا ہے۔

جب آپ کسی سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ آپ کے بارے میں کوئی امید قائم کرے تو گویا آپ اس کو اپنا ایک چک دیتے ہیں۔ ایسے چک کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ آپ کے الفاظ کو وہ عمل کے وقت کیش کرا سکے۔ اگر ایسا ہو کہ عمل کا وقت آنے پر آپ اپنے قول کے تقاضے پورے نہ کریں تو گویا کہ آپ نے اپنے بھائی کو ایک بے کار چک دے دیا۔ آپ اس سے ایسے الفاظ بولے جن کے پیچھے آپ کے اخلاقی کھاتے میں عمل کی ضروری مقدار موجود نہ تھی۔ کسی قوم پر جب زوال کا وقت آجائے تو اس کا ہر فرد اسی قسم کے بے کار چک تقسیم کرنے کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ اب ہر شخص ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جس کے بارہ میں وہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ جس کے متعلق اس کے اندر یہ مضبوط ارادہ موجود نہیں ہوتا کہ وہ ان الفاظ کو عمل کی صورت میں پورا کرے گا۔ اس قسم کی لفظی فیاضی قرآن کی اس آیت کی مصداق ہے کہ وہ اپنی زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں (آل عمران ۱۶۷) یعنی ایسے لوگ بظاہر بڑے بڑے الفاظ بولتے ہیں مگر وہ اپنے بول میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کے اندر یہ پختہ ارادہ نہیں ہوتا کہ انھیں اپنے ان الفاظ کو عملاً پورا کرنا ہے۔ وہ صرف کہنے کے لیے کہہ دیتے ہیں ، وہ کرنے کے لیے نہیں کہتے۔

اس روش کو قرآن میں منافقین کا طریقہ بتایا گیا ہے اور منافقین کے بارے میں قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے (النساء ۱۴۵)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page