ایک کہاوت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳
ایک کہاوت
جاپان کی ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس طرح کیا گیا ہے ۔ ایک خرگوش کا پیچھا کرو، اور تم اس کو پکڑ لو گے (Chase one rabbit, and you will get it) اگر آپ بیک وقت دو خرگوش کو پکڑنا چاہیں تو کیا ہوگا ۔ ایک خرگوش پورب کی طرف بھاگ رہا ہوگا اور دوسرا خرگوش پچھم کی طرف ۔ آپ کبھی ایک کو پکڑنے کے لیے پورب کی طرف دوڑیں گے اور کبھی دوسرے کو پکڑنے کے لیے پچھم کی طرف ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں بھاگ کر دور چلے جائیں گے اور آپ دونوں میں سے ایک کو بھی نہ پکڑ سکیں گے ۔ اس کے برعکس جب آپ صرف ایک کی طرف دوڑیں تو آپ کی دوڑنے کی پوری طاقت صرف ایک کی طرف استعمال ہوگی ، اور پھر آپ اس کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔
یہ معاملہ صرف ”خرگوش کا نہیں بلکہ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے ۔ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو بظاہر کئی چیزیں دکھائی دیتی ہیں ۔ وہ ہر ایک کو چاہنے لگتا ہے ۔ مگر کئی کو پانے کی کوشش میں وہ ایک کو بھی کھو دیتا ہے ۔ حالاں کہ اگر وہ اپنی ساری توجہ صرف ایک پر لگاتا تو یقیناً وہ اس کو حاصل کرلیتا۔
اس کی ایک مثال کشمیر کا مسئلہ ہے ۔ انڈیا اور پاکستان کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوئی ۔ اس اعتبار سے کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا ۔ کیوں کہ کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی ۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ کشمیر پاکستان کو نہ مل سکا ۔ اس کی واحد ذمہ داری پاکستان کے لیڈروں پر جاتی ہے ۔ ۱۹۴۷ء میں جب برصغیر ہند کی تقسیم ہوئی تو پاکستانی لیڈروں نے چاہا کہ وہ حیدر آباد پر بھی قبضہ کریں اور کشمیر پر بھی ۔ حیدر آباد پر اس لیے کہ وہاں کا صدر ریاست مسلمان ہے ، کشمیر پر اس لیے کہ وہاں کی زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔
وہ حیدر آباد کے معاملہ میں صدر ریاست کی منطق کو استعمال کرنا چاہتے تھے ۔ اور کشمیر کے معاملہ میں آبادی کی منطق کو ۔ یہ گویا دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑنا تھا ، اور جو لوگ بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑیں ، ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ ایک کو بھی نہ پکڑ سکیں ۔