Al-Risala · May 1998 · page 12

قیامت پھٹ پڑے گی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲

قیامت پھٹ پڑے گی

وہ ایک بے ضرر انسان تھا۔ اس نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی۔ مگر وہ کمزور تھا۔ اس کی پشت پر کوئی جتھا نہیں تھا۔ اس کی کمزوری نے لوگوں کو اس کے خلاف ڈھیٹ بنا دیا۔ اس کے پڑوسیوں نے اس کو ستایا۔ اس کے بڑوں نے اس کو ذلیل کیا۔ کسی نے اس کی عزت پر حملے کیے ۔ کسی نے اس کے اوپر جھوٹے مقدمے قائم کیے ۔ کسی نے اس کی معاشیات کو اجاڑنے کی اسکیم بنائی۔ کسی نے اس کو گھر بے گھر کرنے کی کوشش کی ۔ ہر ایک اس کے معاملہ میں دلیر بن گیا۔ اس نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا۔ مگر کوئی نہ تھا جو اس کی مدد کے لیے دوڑے۔ وہ لوگ جو انسانیت کو بچانے کے لیے بڑی بڑی کانفرنسیں کر رہے تھے ۔ وہ لوگ جو قوم کے تحفظ کے لیے تجویزیں اور بیانات شائع کر رہے تھے ۔ وہ لوگ جو مظلوموں کی حمایت کے نام پر ٹیلی فون اور ہوائی جہاز کی تیزی کے ساتھ سرگرم تھے، سب کو اس نے آواز دی ۔ مگر کوئی نہ تھا جو اس کی آواز کی طرف توجہ دے ۔ شاید اس لیے کہ اس کا ساتھ دینا اپنے اندر کوئی اخباری اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ اس کی مدد کے لیے دوڑنا ان کی شانِ قیادت میں اضافہ کا باعث نہیں ہوتا تھا۔ اس کے معاملے کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنے میں ان کی انا کے لیے تسکین کا کوئی سامان نہ تھا۔ ”میرے مالک ! میرے معاملہ میں لوگ آپ سے نہ ڈرے “ اس کی زبان سے نکلا اور آنسوؤں کے قطرے سے بے بسی کی تصویر بن کر اس کی آنکھوں سے ٹپک پڑے ۔ اس نے محسوس کیا کہ بھری ہوئی دنیا میں وہ اکیلا ہے۔ عجز کے آنسوؤں کے سوا اس کا کوئی شريك اور ساتھی نہیں۔ مگر عین اس وقت فطرت کی ایک مانوس آواز اس کے کانوں میں سنائی دی : میرے بندے ! تیرے آنسوؤں کے یہ قطرے میرے نزدیک تمام بموں سے زیادہ بھاری ہیں ۔ اگر میں ایک آنے والے دن کے لیے زمین و آسمان کو تھامے ہوئے نہ ہوتا تو یقیناً آج زمین و آسمان ان کی تاب نہ لا کر پھٹ چکے ہوتے ۔ مگر میرے بندے ! وہ دن دور نہیں جب جھوٹ اور سچ کو الگ کیا جائے ۔ اس دن کتنے وہ الفاظ بے معنیٰ ثابت ہوں گے جو آج با معنیٰ دکھائی دیتے ہیں ۔ اس دن کتنے وہ لوگ ظلم اور بے انصافی کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے نظر آئیں گے جو آج امن اور انسانیت کے چیمپین بنے ہوئے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page