بے جا شکایت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
بے جا شکایت
ایک مسلمان اخبار نویس نے کہا کہ ہندو لوگوں میں اتنا زیادہ تعصب ہے کہ وہ کبھی مسلمانوں کا اخبار نہیں پڑھتے ۔ پروفیشنل ضرورت کے تحت کوئی پڑھ لے تو پڑھ لے ، مگر عام ہندو مسلمانوں کا اخبار پڑھنا پسند نہیں کرتا ۔
میں نے کہا کہ بطور واقعہ یہ بات صحیح ہے کہ ہندو لوگ مسلمانوں کا اخبار نہیں پڑھتے ۔ مگر اس کی وجہ تعصب نہیں ، اس کی وجہ خود مسلمانوں کے اخبارات کا ایک نقص ہے جس نے انھیں ہندوؤں کی نظر میں ایسا بنا دیا ہے جس میں ان کے لیے کوئی کشش نہ ہو ۔
وہ نقص یہ ہے کہ مسلمانوں کے اخبارات ، تقریباً بلا استثناء ، ایک قسم کا احتجاج نامہ ہوتے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کی قومی شکایتوں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ایسی چیزوں کو مسلمان تو شوق سے پڑھ سکتے ہیں ، کیوں کہ جس کو خارش ہو ، اس کو خارش کا کھجانا بہت اچھا لگتا ہے ۔ مگر دوسرے فرقہ کے لوگوں کو وہ کیوں اچھے لگیں گے ۔
مسلمانوں کے اخبارات بنیادی طور پر فرقہ واریت کے نمائندہ ہیں نہ کہ آفاقیت کے ۔ اور یہی وہ کمزوری ہے جس نے انھیں عمومی مقبولیت تک پہنچنے نہیں دیا ۔ مثال کے طور پر اگر آپ اپنے اخبار میں یہ لکھیں کہ مسلمانوں کے ساتھ داخلہ اور سروس میں تعصب برتا جاتا ہے تو یہ بات دوسروں کی نظر میں ایک قسم کی فرقہ وارانہ چیخ پکار ہوگی ۔ وہ ان کو اپنے آپ سے غیر متعلق چیز نظر آئے گی ۔ اس کے برعکس اگر آپ یہ بتائیں کہ دنیا میں ترقی کا راز محنت ہے تو یہ بات لوگوں کو ایک آفاقی حقیقت معلوم ہوگی ۔ وہ اس کو سب کی چیز سمجھیں گے نہ کہ ایک فرقہ کی چیز ۔ وہ اس کو خود اپنے لیے بھی اتنا ہی متعلق سمجھیں گے جتنا کہ دوسروں کے لیے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحافت کو آفاقی صحافت بنائیں ۔ وہ اس کو انسانی قدروں کا حامل بنائیں ۔ اس کے بعد انھیں کسی سے مذکورہ قسم کی شکایت نہ ہوگی ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی طرف توجہ دیں تو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے مفید ثابت کیجیے ۔ اس کے بغیر نہ کوئی مسلمان آپ کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی غیر مسلمان ۔