Al-Risala · May 1998 · page 16

بیان حقیقت

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶

بیان حقیقت

ایک صورت یہ ہے کہ آپ اپنی بات کو دلیل سے ثابت کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو سادہ طور پر بلا دلیل بیان کریں۔ انگریزی کا ایک مثل ہے کہ ایک واضح بیان مضبوط ترین استدلال ہے : A clear statement is an argument in itself. جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بہت سی حدیثوں میں یہی دوسرا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ اتنی مؤثر ہیں کہ انھوں نے کروڑوں لوگوں کے اندر انقلاب پیدا کر دیا۔

اس کی وجہ کیا ہے کہ ایک واضح بیان سننے والے کے لیے بذات خود دلیل بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے ایک بیان کے ساتھ فطرت خود اضافہ کر کے اس کو مکمل کر لیتی ہے۔ دلیل کی کمی انسان کی فطرت خود پورا کر لیتی ہے۔

تمام حقیقتیں انسان کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ وہ انسان کے لاشعور میں پیدائشی طور پر رکھ دی گئی ہیں۔ آدمی جب کسی حقیقت کو مانتا ہے تو وہ اس کو اس لیے مانتا ہے کہ وہ اس کی پیدائشی معرفت کے ساتھ مطابقت کر رہی ہے۔ ایک بیان جب سننے والے کی اپنی فطرت کے ساتھ مطابقت کر رہا ہو تو اُس کے بعد اِس کی حاجت نہیں رہتی کہ اس کو ثابت کرنے کے لیے دلیل و برہان پیش کی جائے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو پیاس لگی ہوئی ہو۔ اس کو پانی کا ایک گلاس پیش کیا جائے تو اس کی ضرورت نہیں کہ پانی کی اہمیت پر اس کے سامنے تقریر کی جائے یا علمی دلائل کے ذریعہ ثابت کیا جائے کہ پانی انسان کے لیے ضروری اور مفید ہے۔ آدمی کے اندر پانی کا احساس اس کو اس سے مستغنی کر دیتا ہے کہ وہ پانی کی اہمیت سمجھنے کے لیے دلیل کا طالب ہو۔

اسی طرح دین فطرت کا مجرد بیان بھی پوری طرح مؤثر ہو سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ فی الواقع بیان حقیقت ہو۔ اس میں کسی غیر فطری چیز کی آمیزش نہ کی گئی ہو۔ وہ اصل واقعہ سے اتنا زیادہ مطابقت رکھتا ہو کہ وہ معرفت فطری کا بے لاگ اظہار بن جائے۔ وہ اپنے صحت بیان کی بنا پر پورے معنوں میں فطرت انسانی کامثنّی بن گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page