مسئلہ کی جڑ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۸
مسئلہ کی جڑ
ہندوستان کے مسلمانوں کے مسئلہ کی جڑ یہ ہے کہ وہ حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آدمی اگر حقیقت ِواقعہ کا اعتراف کرلے تو اس کو اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے آغاز مل جاتا ہے۔ اور اگر وہ حقیقت واقعہ کا اعتراف نہ کرے تو اس کو زندگی کی تعمیر کا آغاز ہی نہیں ملتا۔ اور جن لوگوں کو آغاز نہ ملے وہ اختتام تک کس طرح پہنچ سکتے ہیں۔
ہندوستان میں مسلمان کی حیثیت کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وہ یہاں اکثریت کے بعد (next to majority) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور جو آدمی کسی سماج میں مسٹر نکسٹ کی حیثیت رکھتا ہو، اس کو فریق ثانی سے یک طرفہ طور پر ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ ہمیشہ پریشانیوں کا شکار ہوتا رہے گا۔
ساری دنیا میں جہاں بھی کوئی مسلمان مسٹر نکسٹ کی حیثیت میں ہو، وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان بڑی تعداد میں عرب ممالک، امریکہ اور یورپ میں رہتے ہیں۔ ہر جگہ ان کی حیثیت یہی ہے۔ اور ہر جگہ وہ اپنی اس حیثیت کا اعتراف کر کے رہ رہے ہیں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ نہ ان ملکوں میں رہ سکیں اور نہ ان کو وہاں ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔ ”مسٹر نکسٹ“ بنانا ایک بندوبست کا مسئلہ ہے نہ کہ تفریق و امتیاز کا مسئلہ۔ مسجد میں روزانہ مسلمانوں کو اس بات کا سبق دیا جاتا ہے۔ مسجد کے اندر ایک سو نمازی ہوں تو صرف ایک آدمی آگے امام کی جگہ کھڑا ہوتا ہے۔ باقی ۹۹ آدمی پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہی ایسا ممکن ہوتا ہے کہ مسجد کے اندر نماز با جماعت قائم ہو سکے ۔
امام اور مقتدی کی یہ ترتیب کوئی تفریق و امتیاز کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ بندوبست کا مسئلہ ہے۔ یہی طریقہ فطرت نے پوری زندگی کے لیے قائم کیا ہے۔
تواضع بذات خود ایک عبادت ہے۔ تواضع کا فعل بظاہر انسان کے سامنے کیا جاتا ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ خدا کے آگے جھکنا ہے۔ وہ گویا خدا کے مقابلہ میں پیدا شدہ ربانی نفسیات کا انسانی معاملات میں اظہار ہے۔