Al-Risala · May 1998 · page 27

تقسیم کا فیصلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷

امریکہ اور کناڈا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ تحریک اٹھی جس کو یونی کلچرلزم کہا جاتا ہے۔ مگر ان ملکوں کے دانشوروں نے دیکھا کہ وہ قابل عمل نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کو چھوڑ کر ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کر لیا۔ پھر جو چیز دنیا کے دوسرے ملکوں میں کامیاب نہیں ہوئی وہ انڈیا میں کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کلچر ہمیشہ تاریخی عوامل سے بنتا ہے۔ وہ اوپر سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ انڈیا میں اسکول اور کالج کے طلبہ جب ملتے ہیں تو نمستے یا نمسکار کہنے کے بجائے وہ ایک دوسرے کو ہائے (Hi) کہتے ہیں۔ یہ گریٹنگ کا امریکی طریقہ ہے۔ اسی طرح انڈیا کے دستور میں ہندی کو قومی زبان کی حیثیت دی گئی ہے۔ مگر تمام سرکاری اور غیر سرکاری لوگ انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس قسم کے کلچرل طریقے انڈیا میں تاریخی اسباب سے رائج ہوئے ہیں نہ کسی نافذ کرنے والے نے ان کو نافذکیا ہے۔ کلچر قوموں کے اختلاط سے اپنے آپ بنتا ہے، وہ کبھی مصنوعی طور پر نہیں بنایا جاتا۔

خلاصہ یہ کہ زندگی کے معاملات کو جو چیز تشکیل دیتی ہے وہ تاریخ کی قوتیں ہیں نہ کہ کسی کے بولے یا لکھے ہوئے الفاظ۔ اگر ایسا ہو کہ لوگ الفاظ کے بجائے حقیقتوں پر دھیان دیں ۔ الفاظ کے معانی کو وہ ڈکشنری میں نہ دیکھیں بلکہ تاریخ کے صفحات میں دیکھیں تو ہمارا سماج اس ذہنی تناؤ سے بچ جائے گا جو اکثر بے بنیاد باتوں پر پیدا ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے آخری بربادی تک پہنچ جاتا ہے۔

اس دنیا میں ہمیشہ سچائی غالب آتی ہے۔ یہی تاریخ کی اور عقل کی گواہی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارے لئے امید کا راز چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page