Al-Risala · May 1998 · page 30

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰

ایک شخص کو صرف یہ اختیار ہے کہ وہ خود شراب پئے یا نہ پئے تو اس کی آزمائش صرف اس اعتبار سے ہوگی کہ وہ خود شراب پیتا ہے یا نہیں پیتا۔ دوسرے شخص کو یہ اختیار ہے کہ وہ شراب کی دکان کھولے یا نہ کھولے تو اس کی آزمائش اس کے اپنے دائرۂ عمل کے اعتبار سے ہوگی۔ تیسرے شخص کو یہ اختیار ہے کہ وہ شراب پینے والے کو سزا دے یا نہ دے تو اس کی آزمائش اس اعتبار سے ہوگی کہ وہ شرابی آدمی کو چھوڑ دیتا ہے یا اس کے اوپر خدا کی بتائی ہوئی سزا کو نافذ کرتا ہے۔ اسی طرح شریعت الہی کے تمام احکام انسان کی جانچ کے لئے ہیں اور وہ ہر انسان کے اپنے دائرہ اختیار سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی حکم یا احکام کا کوئی مجموعہ اس نظریہ سے تعلق نہیں رکھتا کہ خدا کی حکومت زمین پر یا انسانی دنیا پر قائم نہیں ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خدا کے نائب بن کر خدا کے اقتدار کو اس حصہ کائنات پر نافذ کریں۔

انسان کو موجودہ زمین پر اس لئے نہیں بسایا گیا ہے کہ وہ یہاں اقتدارِ خداوندی کی تکمیل کرے۔ انسان کو یہاں بسانے کا واحد مقصد امتحان ہے۔ انسان کو عارضی مدت کے لئے یہاں رکھ کر خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون شخص اپنے اختیار کو جائز حدود کے اندر استعمال کرتا ہے اور کون اختیار پا کر سرکش بن جاتا ہے (خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم احسن عملا)، اس اعتبار سے شخصی دائرہ میں حکم الہی کی تعمیل بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی حیثیت رکھتی ہے جو حکومتی دائرہ میں اختیار کو استعمال کرنے کی ہے یا ہوسکتی ہے۔ تحریف یا استدلال اس نظریہ کے حق میں قرآن سے جو دلائل دئے جاتے ہیں، وہ تحریف کی حد تک غلط ہیں۔ ان میں سے اکثر دلائل کا تجزیہ ”تعبیر کی غلطی“ نامی کتاب میں کیا جا چکا ہے۔ یہاں ہم ان حضرات کی ایک اور دلیل کی وضاحت کریں گے۔

یہ دلیل قرآنی آیت وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (المدثر ۳) کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا کو بڑا کرو۔ یعنی خدا کی سیاسی اور حکومتی بڑائی کو زمین پر قائم کرو۔ اس نظریہ کے مطابق، اسلام صرف روزہ اور نماز کا نام نہیں ہے۔ اسلام یہ ہے کہ دنیا میں سیاسی انقلاب برپا کیا جائے۔ ساری دنیا میں خدائی قانون کو نافذ کیا جائے ۔ خدا کی بڑائی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page