Al-Risala · May 1998 · page 31

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱

جو ساری کائنات میں قائم ہے، اس کو زمین پر قائم کر کے اس کی بڑائی کی تکمیل کی جائے۔ یہ حضرات وَرَبَّکَ فَکَبِّرکا ترجمہ کرتے ہیں ــــــــ اور اپنے رب کو بڑا کر۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ تکبیر کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا صرف اعلان یا اعتراف کر دیا جائے، زبان سے اللہ اکبر کہہ دیا جائے۔ بلکہ تکبیر سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کی سیاسی بڑائی کو زمین پر نافذ کیا جائے۔ اس کی کبریائی کی بنیاد پر مبنی حکومتی نظام کو بالفعل قائم کیا جائے ۔ اپنی اس تشریح کی روشنی میں اور اپنے اس دعوے کے مطابق، یہ حضرات انقلابی تحریک چلا رہے ہیں جس کا مدعا یہ ہے کہ سیکولر حکمراںوں کو اقتدار سے ہٹا کر اسلام پسند حکمرانوں کو اقتدار پر بٹھایا جائے۔ اور پھر یہ اسلام پسند حکمران خدا کے نائب بن کر خدا کی بڑائی کو زمین پر قائم کریں۔

"تکبیر رب" کا یہ مفہوم نہ صرف علمی اعتبار سے بے بنیاد ہے بلکہ وہ لرزہ خیز حد تک ایک بیجا جسارت ہے۔ کیوں کہ اللہ کی بڑائی تمام دنیا پر اپنے آپ قائم ہے۔ اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ کوئی شخص اللہ کی بڑائی کو اس کی طرف سے دنیا کے اوپر قائم اور نافذ کرے۔

بلاشبہ اسلام میں یہ بھی مطلوب ہے کہ حسب حالات سیاسی اور حکومتی معاملات میں شرعی قانون کو جاری کیا جائے۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ انسانی امتحان کا مسئلہ ہے نہ کہ خدا کی بڑائی قائم کرنے کا مسئلہ۔ جس طرح انفرادی زندگی کے احکام ایک فرد کے لئے بطور آزمائش ہیں۔ اسی طرح شریعت کے اجتماعی احکام بھی ان لوگوں کے لئے آزمائش ہیں جو اجتماعی امور کا اختیار رکھتے ہوں۔ ان احکام کا اس خود ساختہ نظریہ سے کوئی تعلق نہیں کہ زمین پر خدا کی بڑائی قائم نہیں ہے اور اب ضرورت ہے کہ مسلمان یہاں خدا کی بڑائی قائم کر کے اس کے اقتدار کو مکمل کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے ، تکبیر یا اللہ اکبر کا کلمہ سب سے زیادہ نماز کے عمل میں دہرایا جاتا ہے۔ یہ عمل روزانہ پانچ اوقات میں مسجد کے اندر انجام دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسجد کے اندر خدا کا سیاسی اقتدار قائم نہ تھا، اور نمازیوں نے تکبیر (اللہ اکبر) کا عمل کر کے مسجد کے احاطہ میں خدا کی سیاسی بڑائی کا تخت بچھا دیا۔

مسجد کے ماحول میں اللہ اکبر کی تکرار ایک خالص شخصی عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بندہ جس کو اللہ نے فکر و عمل کی آزادی دی تھی، اس نے مسجد میں آکر خدا کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page