Al-Risala · May 1998 · page 34

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴

سب سے بڑی عبادت اللہ تعالیٰ کی معرفت مومن کا سب سے بڑا سرمایہ یہ ہے کہ وہ خداوند بزرگ و برتر کو اس طرح پائے کہ اس کی شخصیت اس کے جلال و کمال کے تصور سے نہا اٹھے۔ وہ پورے معنوں میں ایک ربانی انسان بن جائے۔ مگر مذکورہ دینی تعبیر میں یہی اہم ترین چیز حذف ہو جاتی ہے۔ خدا کی عظمت ایک قائم شدہ عظمت ہے۔ وہ ازل سے قائم ہے اور ابد تک قائم رہے گی، مومن جب اس قائم شدہ عظمت کے بارہ میں سوچتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی روح خدا کی بڑائی کے احساس سے بھر جاتی ہے۔ اللہ اکبر کا کلمہ اس کو حمد اور شکر اور انابت کی کیفیت سے سرشار کر دیتا ہے۔ خدا کو آخری حد تک کامل سمجھنے کا احساس اس کے اندر عبدیت کے جذبہ کو آخری حد تک بڑھا دیتا ہے۔

مگر مذکورہ تعبیر میں ساری صورت حال بدل جاتی ہے۔ جب یہ مان لیا جائے کہ خدا کی بڑائی ابھی ادھوری ہے۔ کچھ انسانوں نے خدا کی بڑائی کے ایک حصہ پر قبضہ کر رکھا ہے تو اب توجہ کا مرکز خدا کے بجائے انسان بن جاتا ہے۔ اب خدا کی قائم شدہ بڑائی میں سرشار ہونے کے بجائے سارا ذہن ان انسانوں کی مخالفت میں لگ جاتا ہے جو خدا کی بڑائی کے ایک حصہ کو مفروضہ طور پر چھینے ہوئے ہیں۔ اور جن سے اس بڑائی کو واپس لے کر، ہمیں خدا کی بڑائی کو مکمل کرنا ہے۔ "اللہ اکبر" خدائی بڑائی کے اقرار کا عنوان تھا، مگر اس تعبیر نے اللہ اکبر کو انسانی بڑائی کے انکار کا عنوان بنا دیا۔ ایک عظیم روحاني کلمہ محض ایک سیاسی کلمہ بن کر رہ گیا۔

پہلی صورت میں انسان کا روحانی احساس ابھرتا ہے، اور دوسری صورت میں انسان کا سیاسی احساس ہے۔ پہلی صورت میں دین آدمی کے لئے ربانی غذا بن جاتا ہے، اور دوسری صورت میں سیاسی تقریروں اور حکومتی نزاع کا۔ پہلی صورت میں آدمی کے اندر ایک متقیانہ شخصیت ابھرتی ہے اور دوسری صورت میں سیاسی شخصیت۔ پہلی صورت میں آدمی کے اندر خوف خدا کی نفسیات جاگتی ہے اور دوسری صورت میں نفرت انسان کی نفسیات ــــــــــ آدمی عین اسی چیز کو کھو دیتا ہے جس کو در اصل اسے اس دنیا میں پانا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page