Al-Risala · May 1998 · page 33

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳

تفسیر ابن کثیر ولتذکر وااللہ عند انقضاء عبادتكم (۲۱۷/۱) لتظموه كما هداكم لدینه وشرعہ وما یحبه ویرضا ہ ونہا كم عن فعل ما یکرھہ ويا بأہ (۳/ ۲۲۲)

تفسیر قرطبی ای عظمہ عظمۃ تامہ، صفہ بانہ اکبر من كل شی (۳۲۵/۱۰) ای سیدك وما لكك ومصلح امرك فعظم وصفہ بانہ اکبر من ان يكون له صاحبة او ولد (۱۹/ ۶۰)

تفسیر نسفی لتکبروااللہ ای لتعظموه حامدین علی ما ھداکم الیہ واختص ربك بالتكبير وھو التعظيم اى لا يكبر فى عينك غيرہ (۳۰۶/۴) تفسیر آلوسی ای اخصص ربك بالتكبير وھووصفہ تعالى بالكبرياء والعظمة اعتقاداً وقولاً (۲۹ / ۱۱۶)

صفوة التفاسير ای عظم ربك عظمۃ تامة واذكر بصفات العز والجلال والعظمة والكمال (۲ / ۱۸۰)

ای ولتحمدوااللہ على ما ارشدكم اليه من معالم الدين (۱/ ۱۲۲) تفسیر مظہری ای عظمہ عن ان يكون لہ شريك او ولى تعظيما بالغا (۵ / ۵۰۲) وصفہ باوصاف الكمال مالا يتصف به غيرہ (۱۰ / ۱۲۲)

مفسرین کی ان تشریحات پر غور کیجئے ۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تمام مفسرین قرآن کے نزدیک تکبیر رب ایک شخصی عبادت کا فعل ہے نہ کہ کوئی سیاسی اور حکومتی فعل۔ جب ایک بندہ اللہ اکبر کہتا ہے تو وہ اپنی معرفت خداوندی کا زبانی اقرار کرتا ہے۔ وہ اللہ کی عظمت اور اس کے احسانات کو یادکرکے کہہ اٹھتا ہے کہ خدا یا تو ہی بڑا ہے۔ ساری عظمتیں صرف تیرے لئے ہیں۔ میں اپنے عجز کا اور تیری بڑائی کا اقرار کرتا ہوں ۔

اللہ اکبر کسی نام نہاد انقلابی نظریہ کا کوئی سیاسی نعرہ نہیں۔ اللہ اکبر دراصل حمد اور شکر کا کلمہ ہے۔ یہ مومن کی قلبی حالت کا ایک لفظی اظہار ہے۔ اس کا تعلق انسان کی اندرونی شخصیت سے ہے نہ کہ کسی خارجی ڈھانچہ یا کسی بیرونی نظام سے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page