عید اضحی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶
انسان فطرت کے راستے سے ہٹ گیا تھا۔ وہ خواہش پرستی اور توہمات اور خود ساختہ رسم و رواج میں گھرا ہوا تھا اب ضرورت تھی کہ ایک نئی نسل بنائی جائے جس کی اٹھان فطرت کے ابدی اصولوں پر ہوئی ہو۔ جو محدودیت کے خول سے باہر آئے اور آفاقیت کی وسیع تر فضا میں جینے کے قابل بن جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی نئی نسل کی تیاری کے لیے اپنی اولاد کو قربان کر دیا۔ وہ عراق اور شام کے متمدن شہروں سے نکل کر باہر آئے اور اپنے چھوٹے بچے اور ان کی ماں کو غیر متمدن حجاز کے صحرا میں بسا دیا۔ یہاں اس وقت کوئی انسانی آبادی نہیں تھی، اس لیے وہاں وقت کی شہری خرابیاں بھی موجود نہ تھیں۔ اس وقت وہاں صرف فطرت کا ماحول تھا ــــ پھیلی ہوئی زمین، پہاڑ، درخت، ہوائیں، کھلی فضا، آسمان، سورج، چاند، ستارے، وغیرہ۔ شہروں میں اگر مصنوعی تہذیب کا راج تھا تو اس وقت کے حجاز میں ہر طرف فطرت کی تہذیب کے مناظر پھیلے ہوئے تھے۔
یہ گویا فطرت کی وسیع تعلیم گاہ تھی۔ اسی کے آفاقی ماحول میں اس نسل کی تعلیم و تربیت ہوئی جو بعد کو بنی اسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ نئی نسل توالد و تناسل کے ذریعہ تقریباً ڈھائی ہزار سال میں تیار ہوئی۔ اس نسل کا ہر فرد اس اعلیٰ فطرت کا نمونہ تھا جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے ہر فرد میں وہ اعلیٰ اخلاقی اوصاف پوری طرح موجود تھے جو انسانیت کا کمال سمجھے جاتے ہیں۔ بنو اسماعیل کے انھیں اوصاف کی بنا پر ایک مغربی مورخ نے ان کو ہیروں کی ایک قوم (نیشن آف ہیروز) کا نام دیا ہے۔ فطرت کی درس گاہ میں تعلیم و تربیت پا کر ان میں کا ہر شخص ایک انسانی ہیرو بن گیا۔ چنانچہ انھیں میں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وہ تمام اعلیٰ انسان بھی اسی نسل کے افراد تھے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم نے اپنی قربانی کے ذریعہ جو نئی نسل تیار کی اسی کا یہ کارنامہ تھا کہ اس نے تاریخ انسانی میں نئے دور کا آغاز کیا ــــ اسی گروہ نے دوبارہ اعلیٰ انسانی اور اخلاقی اوصاف کے نمونے قائم کیے۔ اس نے انسانیت کے قافلہ کو خالق کی پرستش کے راستہ پر ڈالا جو مخلوق کی پرستش میں پھنسا ہوا تھا۔ اس نے انسانیت کو توہمات کے دور سے نکال کر سائنس کے دور میں داخل کیا، اس نے انسانی غلامی کا خاتمہ کیا اور اس بات کو ممکن بنایا کہ انسان آزادی اور مساوات کی فضا میں جی سکے، وغیرہ۔ عید اضحیٰ کا تہوار ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو دوبارہ اسی طرح قربانی کا عمل