Al-Risala · May 1998 · page 37

عید اضحی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷

کرنا ہے ہر زمانے میں کچھ لوگوں کو اس مقصد کے لیے اٹھنا ہے کہ وہ قربانی کی حد تک جاکر اصلاح و تعمیر کا عمل انجام دیں۔ وہ انسانیت کے قافلہ کو اس وقت دوبارہ فطرت کی شاہراہ پر لائیں جب کہ وہ اس سے بھٹک گیا ہو۔

عید اضحی کا تہوار حضرت ابراہیمؑ کی مثالی قربانی یاد دلاتا ہے۔ اس طرح دنیا بھر کے مسلمان علامتی طور پر حضرت ابراہیمؑ کی تقلید کر کے یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ حقیقی طور پر حضرت ابراہیمؑ کے طریقہ پر چلیں گے، وہ اپنے زمانے میں دوبارہ سنتِ ابراہیمی کو ان نئے حالات کے اعتبار سے زندہ کریں گے، تاکہ انسانیت کا قافلہ رکے بغیر ترقی کی سمت میں اپنا سفر جاری رکھے۔

عید اضحی کے موقع پر ذوالحجہ کے مہینہ میں جو کچھ کیا جاتا ہے وہ حضرت ابراہیم کی قربانی کا ایک علامتی اعادہ ہے۔ حضرت ابراہیم کی اس قربانی والی زندگی کو زیادہ جامع صورت میں حج کے موقع پر حجاز کے علاقہ میں ہر سال دہرایا جاتا ہے جہاں ابتدائی طور پر قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ حجاز (مکہ) میں یہ عمل کلی طور پر ادا کیا جاتا ہے اور دنیا کے دوسرے مقامات پر انھیں دنوں میں جزئی طور پر۔ عید اضحی کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کی یہ اسپرٹ ہر مسلمان کے اندر مسلسل طور پر باقی رہے۔ ہر اگلی نسل کے مسلمان اپنے زمانے کے تقاضوں کو سمجھ کر اس کے مطابق، قربانی کے اس عمل کو دہرائیں۔ وہ بار بار اس ابراہیمی سنت کو زندہ کریں تاکہ انسانیت جمود کی شکار نہ ہو۔ یہ عمل ایک طرف ہر دور میں مسلمانوں کے احیائے نو کا ذریعہ ہے اور دوسری طرف وسیع تر انسانیت کی ضرورتوں کی تکمیل بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page