Al-Risala · May 1998 · page 39

بند شیر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹

مسلم رہنماؤ ں نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو بھڑکا دیا۔ اب دنیا بھر کے مسلمان جہاد کے نام پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے ۔ کہیں یہ سرگرمیاں منفی سوچ تک محدود رہیں اور کہیں انھوں نے تشدد کا روپ اختیار کر لیا۔

ان مسلم تحریکوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ منفی سوچ ہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی غالب سوچ بن گئی۔ وہ غیر مسلموں کو اپنا دشمن سمجھ کر ان سے نفرت کرنے لگے۔ اس نفرت کا مزید نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں میں جو لوگ عالمی امن اور بین اقوام رواداری کی بات کرتے تھے یا دوسری قوموں سے خوش گوار تعلقات قائم کرنے پر زور دیتے تھے وہ سب مسلمانوں کی نظر میں معتوب ہو گئے، وہ انھیں دشمن قوموں کے ایجنٹ نظر آنے لگے۔

اس طرح موجودہ زمانہ کے مسلمان نہ صرف غیر مسلموں سے لڑنے بھڑنے میں مصروف ہو گئے، بلکہ خود اپنی قوم کے اعتدال پسند لوگوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر ان کے خلاف بھی جنگ چھیڑدی ۔ یہ دوطرفہ جنگ آج دنیا کے ہر حصہ میں کم و بیش جاری ہے۔ کہیں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اور کہیں خود مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان۔

مفروضہ دشمنوں کے خلاف ہونے والی اس نام نہاد لڑائی میں یک طرفہ طور پر خود مسلمانوں ہی کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اب مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کو ساری دنیا میں ایک نیا مشغلہ ہاتھ آ گیا۔ وہ اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنے لگے۔ دشمنانِ اسلام کی ظلم و زیادتی کا اعلان کرنا تقریری اور تحریری جہاد کے ہم معنی بن گیا۔

لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو اس معاملہ کی مکمل ذمہ داری خود نااہل مسلم رہنماؤ ں پر عائد ہوتی ہے۔ مذکورہ مثال کے مطابق ، شیر کی دھاڑ کے مقابلہ میں وہ صرف بچہ ثابت ہوئے، اس معاملے میں وہ بڑے آدمی کا رول ادا نہ کر سکے۔

بطور واقعہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ غیر مسلم قوموں میں کچھ ایسے افراد اٹھے جنھوں نے اسلام یا مسلمانوں کے خلاف تقریریں کیں یا کتابیں لکھیں ۔ انھوں نے ایسی تحریکیں چلائیں جن کو بظاہر اینٹی مسلم تحریک کہا جا سکتا تھا۔ مگر ہمارے رہنماؤ ں کو جاننا چاہیے تھا کہ یہ شخصی بادشاہت کا زمانہ نہیں ہے ، یہ آزادی اور جمہوریت اور حقوق انسانی کے عالمی اعتراف کا زمانہ ہے۔ آج کی دنیا ایک گلوبل ولیج ہو چکی ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page