بند شیر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰
اب اقوام متحدہ کا طاقت ور ادارہ قائم ہے۔ جدید علمی اور فکری انقلاب نے دنیا بھر کے بیشتر لوگوں کی نظر میں کمڑ پن اور تشدد کو قابل نفرت چیز بنا دیا ہے، وغیرہ۔
اس طرح کے مختلف عالمی اسباب موجودہ زمانہ کے بھیڑیوں اور شیروں کے لیے گویا ایک مضبوط آہنی کٹہر ابن چکے تھے۔ یہ جدید حالات حتمی طور پر اس میں مانع تھے کہ کوئی بھی شخص یا تحریک مسلمانوں کو کوئی حقیقی نقصان پہنچا سکے۔ اس قسم کے دشمن اپنی منفی آوازوں سے مسلمانوں کی سمع خراشی تو کر سکتے تھے مگر وہ ان کے خلاف کسی جارحانہ اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔ ایک لفظ میں یہ کہ اس قسم کی تحریکیں مسلمانوں کے لیے صرف ایک بے ضرر از عاج (nuisance) تھیں نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی واقعی خطرہ۔
ایسی حالت میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کا کام وہ نہ تھا جو انھوں نے کیا۔ ان کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو بتاتے کہ موجودہ زمانہ مکمل طور پر ایک بدلا ہوا زمانہ ہے اس قسم کے تمام لوگ زیادہ سے زیادہ فضا میں کچھ لفظی کثافت بکھیر سکتے ہیں، وہ تمہارے لیے کوئی حقیقی خطرہ نہیں۔ تم ان کے معاملہ میں اسلامی تعلیم کے مطابق اعراض کا طریقہ اختیار کرو، تم ان کے لفظوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا تعمیری اور دعوتی کام جاری رکھو۔ اپنے آپ کو جدید پہلو سے زیادہ سے زیادہ مستحکم بناؤ۔ تم دوسروں سے الجھے بغیر اپنے ترقیاتی کاموں میں مصروف رہو۔
مگر بدقسمتی سے مسلم رہنما اس صورت حال کی اصل نوعیت کو نہ سمجھ سکے۔ انھوں نے انتہائی غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو ٹکراؤ کے راستہ پر لگا دیا جس کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ مسلمانوں کے لیے کامل طور پر یہ موقع تھا کہ وہ ’’کٹہرا‘‘ سے باہر رہ کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام انجام دیں مگر اپنے رہ نماؤں کی بے بصیرت رہنمائی کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ وہ پرجوش چھلانگ لگا کر خود کٹہرے کے اندر داخل ہو گئے۔ بند شیر تو ان کے قریب نہیں آ سکتا تھا مگر انھوں نے خود ہی اپنے آپ کو شیر تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک الم ناک صفحہ بن چکا ہے۔
اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيد هم شيئًا (آل عمران ۱۲۰)
اس آیت کے مطابق ، تقویٰ اور صبر کی روش گویا وہ آہنی روک ہے جو دشمن کو ہم سے دور رکھتی