Al-Risala · May 1998 · page 41

بند شیر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱

ہے ۔ یہ روش اس بات کی ضمانت ہے کہ ہم دشمن کی سازشوں کی زد میں آنے سے محفوظ رہیں گے۔ مگر جب مسلمان تقویٰ اور صبر کی روش چھوڑ دیں تو اس کے بعد ان کے اور ان کے دشمن کے درمیان کوئی روک باقی نہیں رہتا ۔ اس کے بعد ان کی مثال اس انسان جیسی ہو جاتی ہے جو کسی زو میں لوہے کی سلاخوں کو پار کر کے اپنے آپ کو شیر کے پاس پہنچا دے ۔

اس طرح چھلانگ لگانے والا انسان اگر بعد کو یہ چیخ و پکار بلند کرے کہ یہ شیر بڑا ظالم ہے ، اس نے مجھے پھاڑ ڈالا تو یہ شکایت صرف اپنی نادانی کا اشتہار ہوگی ۔ اس کے برعکس ایسے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی نادانی کا اعتراف کرے نہ کہ شیر کو مجرم قرار دے کر اس کے خلاف بے فائدہ طور پر شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنے میں مشغول ہو جائے ۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے اسی امتحان کی بنا پر یہاں ہر ایک کو پوری آزادی بھی دی گئی ہے۔ یہاں بسنے والے ہر شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو چاہے مثبت کام میں استعمال کرے یا منفی کام میں۔

اس صورت حال نے موجودہ دنیا کو ایک قسم کا جنگل بنا دیا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے آپ کو دوسروں کی زیادتی سے محفوظ رکھنے کا طریقہ کیا ہے ۔ وہ طریقہ قرآن کے مطابق ، تقویٰ اور صبر ہے ۔ تقویٰ اور صبر ایک اور دوسرے کے درمیان فطرت کی مقرر کی ہوئی آڑ ہے ، جو لوگ اس آڑ کو باقی رکھیں وہ دوسروں کی زیادتیوں سے محفوظ رہیں گے ۔ اور جو لوگ اس آڑ کو اپنی نادانی سے توڑ ڈالیں، وہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی ظلم و زیادتی کا شکار ہوئے ۔

الربیة حیات بشری کا ربانی طریقہ مولانا وحید الدین خاں حدیث رسول مولا نا وحید الدین خاں قیادت نامہ مولانا وحیدالدین خاں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page