Al-Risala · May 1998 · page 44

Slavery or freedom, choose between the two.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴

سوشلسٹ پیٹرن آف سوسائٹی کا نام دیا گیا۔

عجیب بات ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین جس زمانہ میں سوشلزم (اشتراکیت) کو اقتصادی تعمیر کی معراج کمال سمجھ رہے تھے اسی زمانہ میں راقم الحروف اپنی وہ کتاب تیار کر رہا تھا جو بعد کومر تب ہو کر "مارکسزم تاریخ کو رد کر چکی ہے" کے نام سے شائع ہوئی۔ سوشلزم یا (مارکسزم) کے بارے میں اول دن سے میری یہ رائے تھی کہ وہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ کیوں کہ اقتصادی ترقی مسابقت کے کھلے ماحول میں ہوتی ہے نہ کہ ریاستی کنٹرول کے بند ماحول میں۔ مگر ہمارے سیاسی قائدین اس نظریہ کے بارے میں خوش خیالی کی حد تک پر امید بنے ہوئے تھے انھوں نے ہندوستان میں سوشلسٹ سوسائٹی بنانے کے لیے قومی دولت کا کھربوں ڈالر اقتصادی پلاننگ کے نام پر ضائع کر دیا۔

ان لیڈروں کی آنکھ صرف اس وقت کھلی جب کہ چالیس قیمتی سال بیت گئے اور ملک میں کوئی حقیقی ترقی نہ ہوسکی۔ چنانچہ اب سوشلسٹ اکانومی (صحیح تر لفظ میں کنٹرولڈ اکانومی) کے بجائے لبرل اکانومی کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ مگر ملک کی اقتصادی حالت اب اتنی زیادہ بگڑ چکی ہے کہ بظاہر طویل مدت تک اس کے درست ہونے کی کوئی امید نہیں۔

اب مسلم لیڈر شپ کی ایک مثال لیجیے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہوا تو راقم الحروف نے مسلسل یہ لکھا کہ اس مسئلہ کو لوکل دائرہ میں محدود رکھا جائے اور پر امن گفت و شنید یا عدالت کے ذریعہ سے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے مگر نا اہل مسلم قیادت نے اس کو دھوم کا مسئلہ بنایا۔ ایودھیا کی مسجد کے نام پر سارے ملک میں دھواں دھار تحریک چلا دی گئی اس کے نتیجہ میں ہندوؤں کے جذبات بھڑک اٹھے یہاں تک کہ 6 دسمبر ۱۹۹۲ء کو ہندوؤں کی ایک بھیڑ ایودھیا میں اکٹھا ہوئی اور اس نے بابری مسجد کو ڈھاکرا یک عارضی مندر بنا دیا۔

اس کے بعد نا اہل مسلم لیڈروں نے دوبارہ "مسجد وہیں بناؤ" کے نام پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ جگہ جگہ فرقہ وارانہ فساد ہونے لگے پورے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی فصل آگ آئی۔ اس وقت راقم الحروف نے سنگین برسک لے کر یہ اعلان کیا کہ ہندو اور مسلمان دونوں اب اس مسئلہ پر چپ ہو جائیں ، وہ مندر اور مسجد کے سوال کو ایودھیاہی میں ختم کر دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page