Slavery or freedom, choose between the two.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵
اس وقت لوگ اتنے جوش میں تھے کہ انھوں نے میری بات کو نظر انداز کر دیا۔ خاص طور پر مسلمانوں کا اردو پریس اس معاملہ میں زرد صحافت کا بدترین نمونہ بن گیا اس نے میرے خلاف جھوٹے الزامات عائد کر کے مجھ کو اتنا زیاوہ بدنام کرنے کی کوشش کی کہ اس کی مثال صحافت کی پوری تاریخ میں مشکل سے ملے گی ۔ مگر آ ج کیا حال ہے آج تمام مسلمان خواہ اصاغر ہوں یا اکابر، بے ریش طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہوں یا باریش طبقہ سے ، ہر ایک وہی کر رہا ہے جس کا مشورہ میں نے دسمبر ۱۹۹۶ء میں دیا تھا۔ یعنی ہر ایک چپ ہے ۔ ایک عرصہ تک لفظی دھوم مچانے کے بعد اب ہر ایک نے اس موضوع پر لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے اور بولنا بھی۔
اب ایک اور ورق الٹیے ۔ جنوری ۱۹۹۳ء میں ورندابن میں وہاں کے گیتا آشرم میں ایک آل انڈیا سیمنار ہوا۔ اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ان کی دعوت پر میں نے بھی اس سیمنار میں شرکت کی (ملاحظہ ہو سفر نامہ الرسالہ نومبر ۱۹۹۳ء) اس موقع پر میں نے ایک مفصل تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں ہندوستان اور پاکستان کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد پاکستان میں کچھ لوگوں نے اسلامی اسٹیٹ قائم کرنے کے نام پر تحریک چلائی ۔ اسی طرح ہندوستان میں کچھ لوگوں نے ہندو اسٹیٹ کو اپنا نشانہ بنایا ۔ مگر میرے نزدیک یہ دونوں ہی قسم کی تحریکیں صرف وقت اور طاقت کے ضیاع کے ہم معنی ہیں۔ کیوں کہ سادہ طور پر دہ موجودہ حالت میں قابل عمل ہی نہیں۔ یہ دونوں تحریکیں بظاہر مختلف ہونے کے باوجود اسپرٹ آف دی ایج کے خلاف ہیں ، اور جو چیز اسپرٹ آف دی ایج کے خلاف ہو اس کو اس وقت تک قائم کرنا ممکن نہیں جب تک کہ خود زمانہ کا مزاج ہی بدل نہ جائے ۔ حکومتی نظام عمومی حالات کے تابع ہے نہ کہ کچھ افراد کی خواہشات کے تابع ۔ کسی بھی حکومتی نظام کے لیے سب سے پہلے اس کے موافق حالات بنانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومتی نظام شعوری تبدیلی کی زمین پر قائم ہوتا ہے نہ کہ محض حکمرانوں کی تبدیلی کی زمین پر۔
میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں صرف سیکولر اسٹیٹ ہی قابل عمل ہے اس لیے آپ لوگوں کو ہندوتو کا نعرہ چھوڑ کر سیکولرازم کا نعرہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اگر آپ اس کو اپنے ارادی فیصلہ کے تحت نہ کریں تو حالات کے دباؤ کے تحت ایسا کرنا پڑے گا ۔ ورندابن کے مذکورہ سیمنار میں