Al-Risala · June 1998 · page 7

کرائیٹرین کا مسئلہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۷

کرائیٹرین کا مسئلہ

کرائیٹرین (معیار) کا مسئلہ بے حد اہم مسئلہ ہے ۔ بیشتر فکری گمراہیاں صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ لوگوں کے ذہن میں کرائیٹرین واضح نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو صحیح سمجھ رہا ہوتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو جانچنے کے لیے غلط کرائیٹرین استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی بات کو درست کرائیٹرین پر جانچے تو وہ جان لے گا کہ اس کی سوچ صدفی صد غلط ہے۔

مثال کے طورپرخلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓ نے جب حضرت عمر فاروقؓ کو امیر المومنین مقرر کیا تو بیشتر صحابہ اس رائے سے اتفاق نہ کر سکے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ عمر ایک سخت گیر انسان ہیں اور سخت گیر انسان کو امیر المومنین نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ وہ سخت گیر ہیں مگر "سریرتہ خير من علانيته“ ان کا اندر ان کے باہر سے بہتر ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ عمر فاروق کی امارت کے مخالف تھے وہ اپنی رائے کے حق میں غلط کرائیٹرین استعمال کر رہے تھے۔ امیر کے لیے اصل کرائیٹرین یہ نہیں ہے کہ وہ سخت ہے یا نرم۔ اس کے بجائے اصل کرائیٹرین یہ ہے کہ وہ نیک نیت ہو۔ وہ خدا سے ڈرنے والا ہو۔ وہ اپنے اندر بصیرت کی صفات رکھتا ہو۔ وہ حق اور ناحق میں فرق کرناجانتاہو۔ صحیح کرائیٹرین (معیار) کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خلافت کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کا انتخاب نہایت درست تھا۔ کیوں کہ خلیفہ کی سب سے اہم صفت اس کا مدبر ہونا ہے، اور یہ صفت ان کے اندر پوری طرح موجود تھی۔ اس کے برعکس اگر اس معاملے کو غلط کرائیٹرین سے دیکھا جائے تو ایک شخص کہے گا کہ خلافت کے لیے عمر فاروق کا انتخاب درست نہ تھا کیوں کہ ان کے مزاج میں بہت زیادہ شدت تھی ۔ حالاں کہ یہ کرائیٹرین ہی اس معاملے میں بجائے خود درست نہیں۔

جیسا کام ہو ویسی ہی اہلیت درکار ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page