اقدام کب
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۸
اقدام کب
اسلامی شریعت کا ایک اہم اصول وہ ہے جس کو سد الذرائع کہا جاتا ہے۔ یعنی برائی پیدا ہونے والے اسباب کو روکنا۔ قرآن (الانعام ۱۰۸) کی ہدایت کے تحت علماء اسلام کا اتفاق ہے کہ اگر حالات ایسے ہوں کہ ایک جائز کام کو کرنے سے ایک زیادہ بڑی برائی پیدا ہوتی ہو تو لازم ہے کہ مسلمان ایسے جائز کام سے باز رہیں:
ان المحق يكف عن حقہ اذا أدى إلى ضرر حق دار اپنے حق سے رکا رہے گا جبکہ وہ ایک (الجامع لاحکام القرآن 4/ 61) ضرر پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اقدام صرف اس بنا پر صحیح نہیں ہو جاتا کہ بظاہر وہ حق کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے معاملے میں یہ دیکھنا لازمی طور پر ضروری ہے کہ اقدام کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ جو اقدام عملاً منفی نتیجہ ظاہر کرے۔ وہ ایک غیر مطلوب اقدام ہے، خواہ نظری طور پر وہ کتنا ہی زیادہ مطلوب نظر آتا ہو۔
ایک شخص اسلام کے خلاف گستاخی کرے، لیکن حالات کے اعتبار سے یہ اندیشہ ہو کہ اس کے خلاف کارروائی کرناشدید تربرائی پیداکرنے کا سبب بن جائے گا، تو ایسے موقع پر لازم ہوگا کہ گستاخی کے خلاف خاموشی کا رویہ اختیار کیا جائے۔
ایک شخص آپ کو ایک چھوٹا نقصان پہنچائے، اور حالات بتاتے ہوں کہ اس کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ زیادہ بڑی برائی کا سامنا پیش آجائے گا، تو ایسی حالت میں چھوٹی برائی کو برداشت کر لیا جائے گا تا کہ زیادہ بڑی برائی کو برداشت کرنے کی نوبت نہ آئے۔ ایک شخص علی الاعلان آپ کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرے، اور حالات کے اعتبار سے یقینی نظر آتا ہو کہ اگر آپ نے جوابی کارروائی کی تو ہنگامہ بڑھ کر جان و مال کی تباہی تک پہنچ جائے گا، ایسی حالت میں ضروری ہوگا کہ پرشور کارروائی کا جواب خاموش کارروائی کے ذریعے دیا جائے تاکہ نقصان کو اس کی ابتدائی حد پر روکا جا سکے ۔ یہ اسلام کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہے۔ اسلامی عمل وہی ہے جس میں اس حکمت کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues