کائناتی کلچر
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳
کائناتی کلچر
میل ملاپ کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ ہر قسم کی انسانی ترقی کا زینہ ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے درمیان ملنا جلنا نہ ہو وہاں ہر ایک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ کوئی بھی شخص یا گروہ زیادہ آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔
میل ملاپ (interaction) فطرت کا قانون ہے۔ وہ ساری کائنات میں ہر طرف جاری ہے ۔ درخت ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تو خدا نے ان کے درمیان ہوائیں چلادیں جس کے ذریعہ وہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ خلا کے ستارے ایک دوسرے سے بہت دور ہیں، ان کا آپس میں جسمانی طور پر ملنا ممکن نہیں، خدا نے انھیں روشنی دے دی۔ چنانچہ وہ روشنی کے ذریعہ ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹیوں سے جاری ہونے والے چشمے سمندر سے بہت دور تھے مگر خدا نے ان کے لیے بہاؤ کی صورت پیدا کر دی ۔ اس طرح یہ چشمے دریاؤں میں بہتے ہوئے سمندر میں جاکر مل جاتے ہیں۔
میل ملاپ ایک یونیورسل کلچر (کائناتی طریقہ) ہے۔ یہی یونیورسل کلچر انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ جس طرح بقیہ کائنات کا نظام درست طور پر باہمی ہم آہنگی کے ذریعہ چل رہا ہے، ٹھیک اسی طرح انسانی زندگی کا نظام بھی درست طور پر اس وقت چل سکتا ہے جب کہ انسان بھی اس کائناتی کلچر کو اختیار کرے (آل عمران (۸۳)
دو انسان یا زیادہ انسان جب باہم ملتے ہیں تو یہ پتھروں کا باہم ملنا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایسی مخلوق کا ملنا ہوتا ہے جس کے اندر دل اور دماغ والی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کا آپس میں ملنا جلنا مختلف قسم کے عظیم فائدوں کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح باہمی محبت بڑھتی ہے۔ یہ عمل ذہنی ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے تجربات سے نئی نئی باتیں سیکھتے ہیں۔ ہر فرد انسانیت کے مجموعی خزانے میں حصہ دار بن جاتا ہے۔ میل ملاپ صرف ایک سماجی سلوک نہیں۔ وسیع تر معنیٰ میں، وہ زندگی کی ایک عظیم تر حکمت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues