دوقسمی طرزِ فکر
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲
فطرت کا نظام
کامیابی نام ہے خدا کے مقرر کیے ہوئے فطری نظام سے مطابقت کرنے کا ــــــــ یہی ایک لفظ میں زندگی کا راز ہے۔ خواہ وہ فرد کی زندگی کا معاملہ ہو یا سماج اور ریاست کا معاملہ۔ یہ دنیا جس میں ہم اپنے آپ کو پاتے ہیں وہ ہم نے خود نہیں بنائی ہے۔ اور نہ اس کو بنانے والے نے ہمارے مشورہ کے مطابق اس کو بنایا ہے۔ یہ دنیا کچھ محکم اصولوں پر بنائی گئی ہے۔ اور وہ انہی اصولوں کے تحت چل رہی ہے ، اور اسی طرح وہ ہمیشہ چلتی رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہماری حیثیت ثانوی ہے۔ ہمیں یک طرفہ طور پر دنیا کے نظام سے موافقت کرنا ہے۔ موافقت نہ کرنے کی صورت میں ، نقصان اٹھانے والا فریق ہم خود ہوں گے نہ کہ بقیہ دنیا۔
ایک کسان اپنے کھیت سے اسی وقت ہری بھری فصل حاصل کرتا ہے جب کہ وہ فطرت کے مقرر کیے ہوئے قانون زراعت کی کامل پابندی کرتا ہے۔ اسی طرح ایک انجینئر اسی وقت کوئی ٹیکنیکل کارنامہ انجام دیتا ہے جب کہ وہ فزکس اور کیمسٹری کے قوانین فطرت کو پوری طرح استعمال کرے ۔ وغیرہ۔
ٹھیک یہی معاملہ انسانی دنیا کا ہے۔ انسانی دنیا کے لیے بھی اسی طرح فطرت کے مقرر قوانین ہیں۔ یہاں بھی کوئی کامیابی صرف اس فرد یا قوم کے لیے مقدر ہے جو ان اصولوں کی پابندی کرے، جو فطرت نے پیشگی طور پر اس کے لیے قائم کر دیا ہے۔ کوئی بھی انسان اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ فطرت کے قانون کو نظر انداز کر کے اس دنیا میں اپنے لیے ایک کامیاب زندگی کی تشکیل کر سکے۔ فطرت کے نقشہ میں جو چیز محنت سے ملتی ہو اس کو ہم رعایت کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے، جو چیز صبر کا ثبوت دے کر ملتی ہو اس کو ہم عاجلانہ اقدام کے ذریعہ نہیں پا سکتے۔ جس چیز کا ملنا امن کی طاقت کے ساتھ مقدر کیا گیا ہے اس کو ہم تشدد کی طاقت کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔ جو چیز تدرّج کے ذریعہ ملنے والی ہو اس کو ہم چھلانگ کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues